کشمیر کی کہانی — Page 206
اور چند دن کے بعد پھر گھر چھوڑ گئے لیکن ۳۱ ر مئی کو شیخ محمد عبداللہ اور خواجہ غلام نبی گل کار کوگرفتار کر لیا گیا۔گرفتاری سے پہلے ان لوگوں نے ساٹھ ہزار کے مجمع میں تقاریر کیں جس میں مسٹر مہتہ۔ٹھا کر کرتار سنگھ اور پنڈت بلا کاک متینوں علیحدہ کرنے کا مطالبہ کیا۔لیڈروں کی گرفتاریاں شیخ محمد عبد اللہ اور خواجہ غلام نبی گلکار کی گرفتاری کے بعد دوسرے ڈکٹیٹر بخشی غلام محمد گرفتار ہوئے اور پھر گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔چودھری غلام عباس کا نفرنس کے جنرل سیکرٹری تھے۔ان کو اپنی گرفتاری کی توقع تھی۔اس لیے انھوں نے اپنی گرفتاری سے پہلے قوم کے نام ایک پیغام دیا جس میں شیخ صاحب اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاریوں پر سخت احتجاج کیا گیا تھا۔اسی طرح برہما آرڈینینس کے ماتحت ٹکٹکیوں کا جو انتہائی ظالمانہ سلسلہ شروع کیا گیا تھا اس پر دلی رنج کا اظہار کیا۔اس پیغام کے آخر پر چودھری غلام عباس نے لکھا:۔چودھری غلام عباس کی اپیل میں اپنے بھائیوں سے زبر دست اپیل کروں گا کہ وہ پُرامن رہیں اور اس خاموش جنگ کو جاری رکھتے ہوئے حکام ریاست پر ثابت کر دیں کہ مسلمانوں کے ظاہری جمود کے خاکستر میں وہ چنگاریاں خوابیدہ ہیں جو مشتعل ہو کر تمام ریاست کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔آپ اپنے ہم وطن ہندو اور سکھ بھائیوں سے رواداری کا سلوک کریں۔آپس میں اتحاد قائم کریں اور خدا پر بھروسہ رکھیں یقیناً وہی اصحاب فیل کے مظالم اور بربریت سے آپ کو نجات دلائے گا۔آخر میں میں مسلمانانِ ہند سے پر 210