کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 205 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 205

کہ اس ظلم کا خاتمہ نہ ہو جائے“۔ریاست میں رد عمل کمیٹی کی یہ قراردادریاست کو ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔اس کی اشاعت پر ایک تہلکہ مچ گیا۔جہاں عوام کے حو صلے بہت بلند ہوئے وہاں حکام نے اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا۔۱۴ اگست ۳۱ء کا کشمیر ڈے“ ان لوگوں نے دیکھا ہوا تھا۔اس قرار داد کی تائید اس طرح ہوگئی کہ ریاست کے اندر شیخ محمد عبداللہ نے مسلم کا نفرنس کی مجلس عاملہ کا اجلاس مارچ کے مہینہ میں سری نگر میں بلوایا اور اس میں جو قرار دادیں منظور ہوئیں وہ اس کی تائید کرتی تھیں۔مہاراجہ بہت گھبرایا۔فورا جموں سے مسٹر کالون وزیر اعظم کو سری نگر بھجوایا اور مسلم کانفرنس کے نمائندوں سے تبادلہ خیالات کے بعد چند اصلاحات کا جن میں (پریس اور پلیٹ فارم کی آزادی بھی شامل تھی ) اعلان کر دیا اور بقیہ مطالبات کو جلد عملی جامہ پہنانے کا وعدہ کیا۔ریاست کی چالیں ایک طرف تو ریاست نے یہ کام کیا۔دوسری طرف مسلمانوں میں پھوٹ ڈلوانے اور سر پھٹول کروانے میں بھی کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔مسلمانوں میں خانہ جنگی کی آگ نے زور پکڑ لیا۔حکومت نے ایک فریق کو اُبھارا دوسرے کو دبایا۔وہ قوم جونکبت کی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔اس میں ایسے کو تاہ فکروں اور غداروں کا پیدا ہو جانا کوئی تعجب کی بات نہیں ہوتی۔جو اپنی قوم کی تباہی و بربادی میں مخالف طاقتوں کے ممدو معاون بن جائیں۔کشمیر میں بھی ایسا ہی ہوا۔آخر امن قائم کرنے کا بہانہ بنایا گیا۔میر واعظ یوسف شاہ کو سری نگر سے باہر لے گئے۔209