کشمیر کی کہانی — Page 204
غیر منصفانہ پالیسی کاسد باب نہیں ہوا گلینسی کمیشن کی سفارشات بھی جنھیں مسلمان اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ناکافی خیال کرتے ہیں۔معرض التواء میں ہیں۔اور ان پر کوئی کاروائی نہیں کی گئی اسمبلی کے قیام کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔فرنچائیز کمیٹی کی رپورٹ نہ شائع ہوئی نہ اس کے متعلق کوئی کاروائی ہوئی ہے۔زمینداروں کو زمینوں کی ملکیت دینے۔جاگیرداروں کے مظالم سے زمینداروں کو بچانے۔تقریر وانجمن کی آزادی کے سوالات و دیگر مطالبات اب تک پیچھے ڈالے جارہے ہیں۔ہندو ترقیات پارہے ہیں اور مسلمان بدستور اپنے حقوق سے محروم ہورہے ہیں۔بلکہ بعض افسران جنھوں نے دیانتداری سے اصلاح کی کوشش کی ہے۔ان پر حکومت نے عتاب کیا ہے اسی طرح وہ حکام جن کے ظلم ثابت ہو چکے ہیں انھیں ان کے عہدوں سے باوجود وعدہ کے ہٹایا نہیں گیا۔پس آل انڈیا کشمیر کمیٹی اس صورت حالات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ایک دفعہ پھر ریاست کی حکومت کو مسلم مطالبات پر جلد سے جلد عمل کرنے کا اور ہر قسم کی بے انصافی کے دور کرنے کا مشورہ دیتی ہے۔اور حکومت ہند سے بھی استدعا کرتی ہے۔کہ وہ اس بارہ میں ریاست کو توجہ دلائے۔اسی طرح کمیٹی سیکرٹری کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ دو ماہ بعد ایک اجلاس کشمیر کمیٹی کا اس امر پر غور کرنے کے لیے طلب کرے کہ اس دوران میں ریاست کے حکام نے کیا کچھ کام کیا ہے اور اگر کوئی تبدیلی نظر نہ آئے تو ایک آل انڈیا کشمیر ڈے“ کے ذریعہ تمام ہندوستان کے سامنے کشمیر کے حالات رکھ کر مسلمانوں سے استدعاء کی جائے کہ وہ اپنے مظلوم بھائیوں کی امداد کے لیے ایک دفعہ پھر متفقہ آواز اٹھائیں اور اس وقت تک دم نہ لیں جب تک 208