کشمیر کی کہانی — Page 19
پر نقش ہے۔اس جواں ہمت بوڑھے نے اس بزرگ کی اس کامیاب نصیحت سے متاثر ہوکر پچاس سال کی عمر میں لکھنا پڑھنا شروع کیا اور اپنے گاؤں میں تعلیم بالغاں کا انتظام کیا۔حاجی عمر ڈار کے ایک فرزند خواجہ عبد الرحمن ڈار تھے انہوں نے اس بزرگ کے مشن کو کامیاب بنانے کے لئے سارے علاقہ کا دورہ کیا۔مسلمانوں کو منظم کیا ان کے اختلافات کو افہام و تفہیم سے حل کیا اور بڑوں کو تعلیم کے فوائد بتائے۔الغرض آہستہ آہستہ یہ گاڑی چلنا شروع ہوگئی۔جموں کے علاقہ میں بھی احباب نے یہ تعمیری تعلیمی سرگرمیاں شروع کر دیں جن میں ایم یعقوب علی ( کنٹریکٹر ) اور ایم فیض احمد ( کنٹریکٹر ) کی حیثیت نمایاں تھی۔ان کے بعض اور ساتھیوں نے بھی اس قومی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔کسانوں کی حالت زار اُن دنوں کشمیر میں دستور تھا کہ کسان سارا سال محنت کرتے۔شالی ( دھان ) کشمیری کی بڑی فصل سمجھی جاتی ہے۔جب یہ فصل تیار ہو جاتی تو سرکاری ملازم آ جاتے۔ساری فصل پر قبضہ کر لیتے۔غلہ کو پورا بھی نہ تولتے۔پھر اس کی قیمت بھی بہت کم لگاتے۔اور یوں سارے کا سارا شالی اسٹور میں چلا جاتا۔اکثر کسان اپنی گزراوقات کے لئے بھی اس میں سے کچھ نہ رکھ سکتا۔بلکہ اپنی ضرورت کے وقت کئی میل سفر کرتا۔کئی دن دھکے کھاتا۔پھر بعد از ہزار رسوائی کہیں وہی غلہ جو اُس نے حکومت کے پاس ایک روپیہ من کے حساب سے بیچا ہوتا تھا۔اُسے دور وپے اور بعض اوقات اس سے بھی مہنگے داموں مل پاتا۔قانون کی اطاعت شدید احساس ذلت کے بعد بیداری کی کروٹوں کو جائز حدود میں رکھنا بھی کسی تحریک کی کامیابی کی اولین ضمانت ہوتا ہے۔اسی لیے ساتھ کے ساتھ اہل کشمیر کو بڑے مؤثر طریق 23 23