کشمیر کی کہانی — Page 186
کانفرنس میں ہر قسم کے سیاسی مسائل زیر بحث آئیں گے خصوصا «گلینسی کمیشن“ کی سفارشات کے حسن و قبح پر بحث ہوگی کہ ان کو کس حد تک قبول کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ ہر وہ تجویز کا نفرنس میں پیش ہوگی جس کا مسلمانوں کی سیاسی و عمر آئی زندگی سے تعلق ہے۔جس کا اعلان کا نفرنس کی مجلس استقبالیہ کر چکی ہے اور جس کی تصدیق شیخ عبدالحمید (وکیل ) رکن بورڈ جو اس مجلس میں (جس میں یہ باتیں سری نگر میں طے ہوئیں شامل تھے ) کرتے ہیں۔اس لیے میں مسلمانانِ ریاست سے پر زور عرض کرونگا کہ وہ اپنے تمام مناقشات کو بالائے طاق رکھ کر آل کشمیر مسلم کانفرنس کو کامیاب بنائیں۔( پاسبان جموں ستمبر ۳۲ء) شیخ محمد عبداللہ صاحب کا بیان نیز شیخ محمد عبد اللہ نے تمام اخبارات کو ۲۳ ستمبر ۳۲ کو یہ تار بھجوایا۔جموں میں مسلمانوں کے ایک جلسہ کی جو روئیداد اخبار سیاست ۲۱ ستمبر ۳۲ء میں شائع ہوئی ہے۔وہ بے بنیاد اور شبہات پر مبنی ہے اور میرے اور حکومت کے درمیان جیسا کہ گوہر رحمان صاحب نے بیان کیا ہے گلینسی رپورٹ کے متعلق کوئی سمجھو نہ نہیں ہوا۔اور نہ ہی یہ صیح ہے کہ کانفرنس میں کلینسی رپورٹ پر بحث نہیں کی جائے گی۔پیش ہونے والے مسائل کے متعلق ہر مسلمان کی طرح میں بھی اکثریت کے فیصلہ کا پابند ہوں۔گوہر رحمن کا اپنے یا اپنے احباب کے شبہات کی تصدیق کئے بغیر ہی اسے پبلک میں لانا افسوس ناک ہے۔۔۔ہندو مسلم فساد شیخ صاحب کے اس واضح بیان سے سب غلط فہمیوں کا ازالہ ہو گیا۔لیکن کچھ مخالف 190