کشمیر کی کہانی — Page 18
اس کے بعد انہیں بڑے زور سے یہ تحریک کی کہ اپنے بچوں کو تعلیم دلائیں درس گاہوں میں بھجوائیں۔جو بچے زیادہ ہونہار ہوں انہیں پنجاب اور دوسرے صوبوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھجوائیں۔بلکہ اس کارِ خیر میں اُن کی ہر ممکن مالی اعانت کا وعدہ بھی کیا۔اس طرح اُن کی اقتصادی بدحالی کو دُور کرنے کے لئے انہیں پہلا سبق یہ دیا۔کہ بد رسوم کو (جو سالہال سال سے اُن میں چلی آتی تھیں ) دُور کیا جائے۔کیونکہ ان کی وجہ سے غریب لوگ مالی لحاظ سے اتنے زیر بار ہو جاتے تھے کہ ساری عمر قرضہ ہی سے چھٹکارا نہیں حاصل ہوتا تھا۔اس کے بعد انہیں (اپنے آپ کو ) محنت کا عادی بنانے اور بے کار نہ رہنے کی طرف ترغیب دلائی۔بیداری کی عام رو رفتہ رفتہ اصلاح احوال کی یہ چنگاری اندر ہی اندر سلگنے لگی اور ان باتوں کا چرچا ہونے لگا۔لوگوں کے دلوں میں یہ احساس گہرا ہوتا چلا گیا کہ انہیں اپنی حالت بدلنی چاہیے۔اور جب تک وہ ان تین باتوں پر زور نہ دیں گے آئندہ ترقیات کی راہیں کبھی ہموار نہ ہوسکیں گی۔چنانچہ بعض لوگوں نے اپنے بچے تعلیم کی غرض سے قریبی درسگاہوں میں بھجوانے شروع کئے۔اور ان میں سے بعض نے تو ابتدائی پرائمری تعلیم کے بعد ہی اپنے لڑکوں کو پنجاب بھجوا دیا۔جن میں سے بیشتر کی پشت پناہی اسی نیک سرشت کے مالی وظائف کرتے تھے۔حاجی عمر ڈار شوپیاں سے چند میل کے فاصلے پر ایک مشہور گاؤں آسنور نامی ہے۔اس گاؤں میں ڈار قبیلے کا ایک معزز گھرانا آباد تھا۔یہ لوگ اپنے سارے علاقہ میں معزز خیال کئے جاتے تھے۔اس لئے ان کی مالی حالت دوسرے سے بہتر تھی۔حاجی عمر ڈار کا نام اب تک لوگوں کے دلوں 22 22