کشمیر کی کہانی — Page 179
میں منشی دانشمند وکیل اور خواجہ غلام احمد بٹ کبھی کا نفرنس کو کامیاب کرنے کے لیے کوشاں تھے۔ایک عظیم الشان جلسہ اسی سلسلہ میں اگست کے آخر میں سری نگر میں واگذار شدہ ”پتھر مسجد میں ایک عظیم الشان جلسہ بھی ہوا جس میں ساٹھ ہزار مسلمان جمع ہوئے۔پیر سید حسام الدین رئیس مظفر آباد جلسہ کے صدر تھے۔اس جلسہ میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے دو معزز اراکین یعنی مولا ناعلم الدین سالک ( ایم۔اے ) اور مولانا سید میرک شاہ نے بھی پُر جوش تقاریر کر کے اس امر پر زور دیا که سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے سب کو متحد ہو جانا چاہیے اور اس سلسلہ میں فرقہ دارانہ اختلاف کو کلیۂ نظر انداز کر دینا چاہیے۔نیز مولانا یوسف شاہ صاحب میر واعظ کو بھی تحریک کی گئی کہ وہ بھی سب اختلافات کو دور کر کے اس معاملہ میں جمہور مسلمانوں سے تعاون کریں۔اس جلسہ کے بعد سری نگر میں لگار تار جلسے ہوتے رہے جن سے رائے عامہ بڑی حد تک ہموار ہوگئی۔ان جلسوں میں اکثر مولوی عبد اللہ وکیل ، مولوی عبد الرحیم ایم۔اے مفتی ضیاءالدین ضیاء ، مولانا سید میرک شاہ تقاریر کرتے۔۔۔سری نگر سے باہر شیخ محمد عبد اللہ نے خود بھی دورے شروع کر دیے تھے۔جن میں مسلمانوں کو مشتر کہ اُمور میں ) متحد رہنے کی تلقین کی جاتی۔قریباً تمام جلسوں میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا ذکر بڑے ہی شکر و سپاس کے ساتھ کیا جاتا۔اور تشکر کی قراردادیں بھی منظور کی جاتیں کیونکہ صرف اور صرف یہ ایک ہی جماعت تھی جو ایک عرصہ سے لگا تار کشمیریوں کی امداد کر رہی تھی۔جموں میں مشورے مجوزہ کانفرنس کے متعلق نمائندگان جموں سے صلاح و مشورہ بھی ضروری تھا۔کیونکہ ان میں سے بعض خصوصاً سردار گو ہر رحمن کا خیال تھا کہ صوبہ جموں کی کانفرنس جموں میں علیحدہ 183