کشمیر کی کہانی — Page 177
۔۔۔چودھری صاحب کی قائداعظم سے ملاقات کے بعد قائداعظم نے فرمایا چودھری صاحب کی معلومات اسقدر وسیع ہیں کہ غیر ریاستی باشندہ ہونے کے باوجود ایک بھی ریاستی باشندہ مجھے ایسا نہیں ملا جو ریاست کے ہر حصہ کے حالات سے ان سے زیادہ باخبر ہو۔۔۔نمائندہ سیاسی جماعت ابتدائی انسانی حقوق کے لیے جدو جہد کی کسوٹی پر پورا اتر نادریائے خون کو تیر کر پار اترنے کے مترادف تھا۔مسلمانان کشمیر کو اس کی پاداش میں جبر وتشد داور ظلم وستم کے ہر امتحان میں سے گذرنا پڑا۔اُن پر مشق بے دردی وسفا کی انتہا کر دی گئی۔اُن پر جھوٹے مقدمات بنے کوڑے برسے ان سے جیلیں بھری گئیں۔القصہ جو ظلم بھی ڈوگرہ حکومت سوچ سکتی تھی اُسے ان مظلوموں پر تو ڑ کر رہی۔ان مظالم کا نتیجہ ریاست کے طول وعرض میں انفرادی بیداری کی صورت میں پیدا ہوا۔کچھ چھوٹی چھوٹی جماعتیں اپنے حلقہ میں مفید کام کرنے لگیں مثلاً ریڈنگ روم پارٹی۔انجمنہائے اسلامیہ کشمیر کوٹلی، میر پور ، جموں اور پونچھ ، ینگ مین مسلم ایسوسی ایشن ، جموں ، میر پور وغیر ہم یہ سب حصول آزادی کی خواہاں تھیں۔لیکن اب کشمیر کے بعض نمائندوں میں اختلاف رونما ہو جانے 181