کشمیر کی کہانی — Page 169
وزیر اعظم سے وفد کی ملاقات ۲۳ / اپریل ۱۹۳۲ء کو کمیٹی کا ایک وفد وزیر اعظم کشمیر سے ملا۔اس کی روداد راقم الحروف نے اُسی روز جموں سے بذریعہ تار بھجوا دی۔تار میں درج تھا:۔۔۔سید حسن شاہ ، مولانا محمد یعقوب خاں ،مسٹر مجید ملک ،مولانا میرک شاہ اور مولانا عبد الرحیم درد پر مشتمل آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا ایک وفد آج کرنل کا لون وزیر اعظم ریاست جموں وکشمیر سے ملا۔اور رسمی طور پر کئی ایک اہم امور پر ان سے تبادلہ خیالات کیا۔جن میں آرڈی نینسوں کی تنسیخ اور سیاسی قیدیوں کی عام معافی کا اعلان بھی ہے۔مسلمانوں کو تخفیف سے بچانے اور ایسی کاروائی عمل میں لانے کے لیے سوپورہ ، ہندواڑہ ، بارہ مولہ ہونگی ، اور راجوری کے افسران کے رویہ کی آزادانہ تحقیقات ہو سکے۔خاص زور دیا گیا مسٹر علینسی کی دستوری سفارشات کے سلسلہ میں دو ایسے مسلم وزراء کے تقرر کا مطالبہ کیا گیا۔جن پر مسلمانوں کو کامل اعتماد ہو۔نیز کونسل میں مسلمانوں کو کافی نمائندگی دیئے جانے پر خاص زور دیا گیا۔کرنل کولون کا رویہ نہایت ہمدردانہ تھا۔اور آپ نے یقین دلایا کہ کلینسی کمیشن کی سفارشات پر پوری توجہ سے عمل درآمد کیا جائے گا۔۔۔66 ریاست کی طرف سے جب اخبارات پر پابندیاں عائد ہونا شروع ہوئیں تو صدر محترم کشمیر کمیٹی نے مطبوعہ مکتوبات کا ایک سلسلہ شروع کر دیا۔یہ مکتوب کسی نہ کسی طریق سے ریاست کے ہر حصے میں پہنچا دیئے جاتے تھے۔میں نے سری نگر میں خود دیکھا کہ جب یہ مکتوب کسی کے پاس پہنچتا۔وہ پندرہ ہیں آدمیوں کو جمع کر کے اسے پڑھ کر سناتا اور پھر ایک شخص دوسرے کو اور دوسرا تیسرے کو پہنچاتا چلا جاتا۔اس طرح ہر خط کا مضمون لاکھوں انسانوں 173