کشمیر کی کہانی — Page 133
چندہ کی اپیل جنگ آزادی کی اس مہم پر ہزار ہارو پیہ خرچ ہورہا تھا۔کشمیر کمیٹی کے فنڈ ز اس کے لیے ہاروپیہ کسی طرح مکتفی نہ ہو سکتے تھے۔اس لیے صدر کمیٹی اپنی ذمہ داری پر قرض لے کر اس کا روبار کو چلا رہے تھے۔فنڈ ز کو مضبوط کرنے کے لیے فیصلہ ہوا کہ چودھری فتح محمد سیال (ایم۔اے سابق ایم ایل اے پنجاب ) صدر محترم کے معتقدین کو اپیل کریں۔کہ وہ اپنی آمد پر ایک پائی فی روپیہ کے حساب سے کشمیر کے لیے چندہ دیں۔اس اپیل پر سب نے لبیک کہی۔چندہ جات کی وصولی اور حساب کا کام چودھری برکت علی خاں کے سپر د ہوا جسے وہ کشمیر کمیٹی کے ٹوٹ جانے کے بعد بھی کشمیر ریلیف فنڈ کے فنانشل سیکرٹری کی حیثیت سے سرانجام دیتے رہے۔اُن کی وفات پر کام راقم الحروف کے سپر دہوا۔137