کشمیر کی کہانی — Page 125
اس ساری جدوجہد کا خاطر خواہ اثر ہوا۔مہا راجہ کو مجبور کر دیا گیا کہ سر ہری کشن کول کو وزارت عظمیٰ کے عہدہ سے علیحدہ کر دے چنانچہ ایک دن یہ حیران کن خبر اخبارات میں شائع ہوئی کہ کول صاحب خرابی صحت کی بنا پر مستعفی ہو گئے ہیں۔۔۔تاریخی ملاقات جموں وکشمیر کے نمائندگان نے جب نومبر ۳۱ ء میں اپنے مطالبات مہاراجہ کے سامنے پیش کر دئیے تو شیخ محد عبداللہ راہنمائے کشمیر اورصدر محترم آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی ملاقات ضروری تھی تا کہ بالمشافہ گفتگو کے بعد آئندہ کے لیے لائحہ عمل تجویز ہو سکے۔شیخ صاحب کا کشمیر سے باہر پنجاب وغیرہ جانا ان دنوں مناسب اور ممکن نہ تھا۔اس لیے تجویز ہوئی۔کہ گڑھی حبیب اللہ میں یہ ملاقات ہو۔سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی ان دنوں سری نگر میں ہی تھے۔تاریخ مقررہ پر جناب صدر تکلیف فرما کر اور دور دراز کا سفر کر کے گڑھی حبیب اللہ تشریف لے گئے۔رات ڈاک بنگلہ میں قیام فرمایا۔سری نگر سے مولانا درد۔مولانا اسمعیل غزنوی اور شیخ محمد عبد اللہ بھی سحری کے وقت روانہ ہو کر صبح سویرے وہاں پہنچ گئے۔راقم الحروف ان دنوں سری نگر میں ہی تھا کشمیر کمیٹی کے کارکنوں میں سے مولوی عصمت اللہ بہلول پوری ساتھ گئے۔اس تاریخی ملاقات میں تمام معاملات کے متعلق جو اس وقت در پیش تھے۔پوری 129