کشمیر کی کہانی — Page 114
مقدمات ٹربیونل کے سامنے دو بڑے مقدمات پہلو بہ پہلو چل رہے تھے۔ایک مسلمانوں کے خلاف جس میں سترہ ملزم نہایت سنگین مقدمات میں ماخوذ تھے۔اور دوسرا چند ہندوؤں کے خلاف تھا۔مسلمانوں کے مقدمہ کی پیروی میر محمد بخش کر رہے تھے۔اور ہندوؤں کے مقدمہ کی پیروی سیالکوٹ کے چوٹی کے وکیل لالہ امرد اس کر رہے تھے۔چند دنوں کے بعد ہی لالہ امر داس جو متعصب انسان نہ تھے۔میر محمد بخش اور چودھری عزیز احمد باجوہ سے بے حد متاثر ہو گئے۔وہ چھ ماہ جموں میں مقدمات کی پیروی کرتے رہے۔لیکن میر صاحب کا بیان ہے کہ اس سارے عرصہ میں ایک دفعہ بھی انہیں یا مسلمانوں کو شکایت کا موقع نہیں دیا۔میر محمد بخش اور لالہ امرد اس نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ مقدمات ابھی کافی عرصہ جاری رہیں گے۔ملزمان جیلوں میں سٹر رہے ہیں اس لیے کیوں نہ ہم علیحدہ علیحدہ اپنے اپنے ملزموں کی طرف سے یہ درخواستیں دے دیں کہ ہر دو مقدمات کے ملزمان کا اپنے بچاؤ کے لیے اس بات پر انحصار ہے کہ وہ خود حفاظتی میں لڑے ہیں۔اس لیے انہوں نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا اور بالآخر اگر کسی فریق کو حفاظت خود کا حق دیا گیا تو وہ فریق بلا وجہ دورانِ مقدمہ جیل میں رہے گا اور مقدمات کے جلد فیصلہ ہونے کا کوئی امکان نہیں۔اس لیے تمام ملزمان کو ضمانت پر رہا کر دیا جائے۔ہر دو وکلاء نے یہ درخواستیں دے دیں جو منظور ہو گئیں اور ملزم رہا کر دیئے گئے۔کشمیر کمیٹی کا احسان جنوری ۳۲ء میں ایک دن راقم الحروف میر محمد بخش کے ساتھ جموں میں اُن کی جائے رہائش کی طرف جارہا تھا کہ سامنے سے ایک وجہ یہ خوش پوش شخص ( جس کی عمر ستر سال سے 118