کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 101 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 101

گیارہ والا اعلان آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے صدر کی ہدایات کے ماتحت ایک باقاعدہ منصوبہ کے تحت کام کیا تھا۔مسلمانان جموں و کشمیر کے مطالبات ایسے رنگ میں تیار کئے گئے تھے۔جنہیں کوئی حقیقت پسند ماننے سے انکار نہ کر سکتا تھا۔پھر بڑی وضاحت سے اُن کی اہمیت اور مقبولیت دنیا کے ہر حصہ ( خصوصاً ہندوستان انگلستان اور امریکہ ) میں ثابت کی۔اور مہا راجہ کو ہر ممکن ذریعہ سے مطالبات کو منظور کرنے پر آمادہ کیا۔اور ساتھ ہی ساتھ مسلمانانِ کشمیر کو متحد رکھا اور دشمنوں کی ہر چال کو ناکام بنادیا۔ان تمام شاندار مساعی کا نتیجہ مہاراجہ کا ارنومبر ۱۹۳۱ء والا وہ تسلی بخش اعلان ہے۔جس میں ایسے مطالبات جو فوری منظوری کے قابل تھے ان کے لیے فوری انتظام کر دیا اور جن کے متعلق غور و خوض کی ضرورت تھی۔اُن پر ایک کمیشن کے ذریعہ جلد غور کر کے فیصلہ کرنے کا حکم نافذ کیا۔محترم در دصاحب کا تیار کردہ درمیانی میموریل بر وقت پہنچا اور بہت مفید ثابت ہوا۔چنانچہ مساجد کے متعلق اس میں جو شکایت کی گئی تھی۔اس کا ازالہ اس اعلان میں کر دیا گیا تھا۔مسلمانانِ ریاست کو جنگ آزادی کا پہلا پھل شاہ جہان کے وقت کی وسیع وعریض اور شاندار مسجد ( جو پتھر مسجد کے نام سے موسوم ہے ) کی واگزاری کے رنگ میں ملا تھا۔۲۹؎ نومبر ۱۹۳۱ء کو اس رسم افتتاح ادا کی گئی۔اس موقع پر پچاس ہزار سے زائد مسلمانوں کا مجمع تھا اور کشمیر کی تاریخ میں اس سے بڑا اجتماع کبھی دیکھنے میں نہ آیا تھا۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے اراکین اور کارکنان کو اعزازی مہمان کے طور پر خاص طور سے مدعو کر کے سٹیج پر بٹھایا گیا۔خواجہ سعد الدین شال کی صدارت میں جلسہ ہوا۔مولوی عبد اللہ وکیل۔شیخ محمد عبد اللہ۔مولانا سید میرک شاہ۔میاں احمد یار اور پیر حسام الدین نے تقاریر کیں۔105