کشمیر کی کہانی — Page 93
ہے تاہم یہاں کچھ نہ کچھ درج کیا جارہا ہے۔چودھری غلام عباس لکھتے ہیں:۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی معرفت ہماری شکایات سمندر پار کے ممالک میں بھی زبان زد خاص و عام ہوگئیں۔اس نزاکت حال کے پیش نظر حکومت کشمیر کے لیے ہماری شکایات کو ٹالنا اور بزور طاقت عمومی محرکات کو بلافکر نتائج کچلتے چلے جانا مشکل ہو گیا۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے پیہم اصرار کے باعث حکومت ہند کا معاملات کشمیر میں دخل انداز ہونا ناگزیز ہو گیا۔“ 2 ( کش مکش ص ۱۱۲ ۱۱۱) نومبر 1931ء کے آخری دنوں میں حکومت کشمیر کو مجبوراً مسلمانانِ ریاست کی شکایات اور مطالبات کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن کا اعلان کرنا پڑا۔یقین غالب ہے کہ اس کمیشن کے تقرر میں حکومت ہند کو بھی زبر دست دخل تھا۔1 ( کش مکش ص ۱۱۱) کشمیر کے قابل احترام مذہبی لیڈر میر واعظ احمد اللہ ہمدانی نے محترم صدر کی خدمت میں ایک مکتوب بھجوایا۔جو اخبارات میں بھی شائع ہوا۔اس میں وہ تحریر فرماتے ہیں:۔الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على سيدنا محمد و آله واصحابه اجمعین السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته -1 اخبار زمیندار کے ایک قریبی پرچہ میں مسلمانان کشمیر کی طرف سے میرے ہمعصر مولوی محمد یوسف صاحب کی طرف سے منسوب شدہ ایک اعلان شائع ہوا ہے۔جس میں آپ کو مطعون کیا گیا اور درخواست کی 97