کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 47 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 47

وقت ممبر بھی بن گئے۔اب مرحلہ اس کمیٹی کے دارالمہام کے انتخاب کا تھا۔۔۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ امام جماعت احمدیہ کے دائیں ہاتھ ایک ہی صوفہ پر ڈاکٹر سر محمد اقبال بیٹھے تھے۔اور دائیں طرف دوسرے صوفہ پر نواب سر ذوالفقار علی تھے۔اور امام جماعت احمدیہ کے بائیں طرف پہلے خواجہ حسن نظامی اور اُن کے بعد نواب صاحب آف گجپورہ تھے۔اور پھر بقیہ معززین جن کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ڈاکٹر سر محمد اقبال نے تجویز کیا کہ اس کمیٹی کے صدر امام جماعت احمد یہ ہوں۔ان کے وسائل مخلص اور کام کرنے والے کارکن، یہ سب باتیں ایسی ہیں کہ اُن سے بہتر ہمارے پاس کوئی آدمی نہیں خواجہ حسن نظامی صاحب نے فورا اس کی تائید کی اور سب طرف سے درست ہے ، درست ہے“ کی آواز میں آئیں۔اس پر امام جماعت احمدیہ نے فرمایا کہ:۔" مجھے اس تجویز سے ہرگز اتفاق نہیں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اور میری جماعت ہر رنگ میں کمیٹی کے ساتھ تعاون کرے گی۔لیکن مجھے صدر منتخب نہ کیا جائے ڈاکٹر سر محمد اقبال نے امام جماعت کو مخاطب کر کے پنجابی میں فرمایا:۔۔۔۔حضرت صاحب جب تک آپ اس کام کو اپنے ہاتھ میں صدر کی حیثیت سے نہ لیں گے۔یہ کام نہیں ہوگا۔۔۔ان کے بعد خواجہ حسن نظامی صاحب اور دوسرے اراکین نے بھی بڑے زور سے تائید کی۔اور جب چاروں طرف سے زور پڑا تو کر ہانہ کہ طوعاً امام جماعت احمدیہ نے اس عہدہ کو قبول کیا۔اور سب حاضرین کی رضامندی سے مولانا عبدالرحیم در دایم۔اے ( مرحوم ) کو کمیٹی کا سیکرٹری مقرر کیا گیا۔اس کانفرنس میں بعض بڑے ہی اہم فیصلے کئے گئے۔جن میں سے ایک 51