کشمیر کی کہانی — Page 328
طور پر کئے بغیر نہ رہ سکے۔انہوں نے کہا۔ہم تو چاہتے تھے کہ آزادی کشمیر کے بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں کے پہلے گورنر جنرل ہوں۔لیکن افسوس ہے کہ مسٹر جناح رضامند نہ ہوئے۔( تحدیث نعمت صفحه 499) اس کے بعد باؤنڈری کمیشن کی کارروائی کے دوران جو بد یا فتیاں کی گئیں اور جن سیاسی پر کاریوں سے ریاست جموں و کشمیر کی 75 فیصد آبادی کو ہندوستان کی جھولی میں ڈالا گیا۔اس پر دیانت وانصاف ہمیشہ سر پیٹتے رہیں گے۔آئیے ذرا ان سیاسی پر کاریوں پر بھی ایک نظر ڈال دیں۔سیاسی پر کاریاں لارڈ ماؤنٹ بیٹن جون 1947ء میں سرینگر تشریف لے گئے۔ان کے اس سفر کی اصل غرض و غایت یہ تھی کہ بالواسطہ انداز میں مہاراجہ کو اس سے باز رکھیں کہ وہ مسلمانوں کی بھاری اکثریت کے باعث ریاست کے پاکستان سے الحاق میں جلدی نہ کرے۔ریاست کے مقتدر اور صائب الرائے ہندوؤں تک کی یہی رائے تھی کہ مذہبی ، تمدنی، معاشی اور ثقافتی اعتبار سے ریاست کا الحاق پاکستان ہی کے ساتھ ہونا چاہیئے۔بعد میں جب حقائق منظر عام پر آئے اور ضلع گورداسپور کی بندر بانٹ کی گئی تو یہ راز اچھی طرح منکشف ہو گئے کہ ماؤنٹ بیٹن کے سفر کشمیر کی غرض و غائت اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ مہاراجہ کو جلد بازی میں الحاق کے سلسلہ میں کوئی قدم اٹھانے سے باز رکھا جائے۔عجیب بات ہے کہ جب قائد اعظم نے حالات سے آگہی کے لئے کشمیر جانا چاہا تو وائسرائے نے انہیں حالات کی ناسازگاری کا بہانہ پیش کر کے وہاں تشریف نہ لے جانے کا مشورہ دیا۔لیکن اس کے برعکس اس 332