کشمیر کی کہانی — Page 327
باب میشیم مسئلہ کشمیر ( اقوام متحدہ کی ) مجلس امن میں صاحب صدر ! آپ کو اور اراکین مجلس کو یاد ہو گا کہ ابھی چند دن ہوئے ہندوستان کے فاضل نمائندہ نے شکوہ کے طور پر کہا تھا کہ کشمیر جل رہا ہے اور مجلس امن ستار بجارہی ہیں۔“ کیا میں ہندوستان کے نمائندہ سے دریافت کرنے کی جرات کر سکتا ہوں۔کہ اب کیا کشمیر کو جلانے والی آگ ٹھنڈی ہوگئی ہے؟ اور اگر نہیں تو اب کون ستار بجارہا ہے۔“ (نمائندہ کولمبیا ) برطانوی حکومت کا رویہ برصغیر کی تقسیم کے معاملہ میں شروع ہی سے کانگریس کے حق میں اور مسلم لیگ کے خلاف تھا۔وہ نہ تقسیم چاہتی تھی نہ پاکستان کا قیام۔لیکن جب حالات نے ایسی صورت اختیار کر لی کہ تقسیم برصغیر ناگزیر ہوگئی تو پھر اس نے اپنی ساری کوششیں اس سازش پر مرتکز کر دیں کہ پاکستان کو بنیادی طور پر اتنا کمزور کر دیا جائے کہ اس کا وجود ہمیشہ خطرے میں رہے۔مسٹرائیلی اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا رویہ گاندھی جی اور پنڈت نہرو کے بارے میں جتنا خوشگوار اور ان سے روابط جتنے گہرے تھے۔قائد اعظم کا وجود ان کے لئے اتنا ہی نا قابل برداشت تھا۔مسٹرا ٹیلی کا تو یہ حال تھا کہ وہ ایک دن پارلیمنٹ میں بھی اپنے اس غیض وغضب کا اظہار برملا 331