کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 292 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 292

کامیاب بنانے کی ذمہ داری اپنے سر ڈال لی۔فوراً اپنے خرچ پر انگلستان سے ایک ماہر پروفیسر مسٹر سپیٹ کی خدمات حاصل کیں۔انہیں لاہور بلوایا اور خود بھی اپنے ساتھ اپنے ذہین و مستعد خدام کا ایک قافلہ لئے بنفس نفیس لاہور پہنچے۔مسٹر سپیٹ کو پنجاب سے متعلق ہر قسم کے نقشے اور معلومات مہیا کی گئیں۔اس سلسلہ میں حوالہ جات کے لئے بعض ایسی کتب کی ضرورت پڑی جو ہندوستان میں نایاب تھیں۔آپ نے فوراً ایسی تمام کتب ذاتی خرچ پر انگلستان سے منگوائیں جن کی مدد سے مسٹر سپیٹ نے مختلف نقطہ ہائے نظر سے متعدد نقشے تیار کئے پروفیسر سپیٹ کے دست راست حضرت امام جماعت احمدیہ کے فرزندار جمند حضرت حافظ میرزا ناصر احمد ایم اے (آکسن ) تھے جن کے تحت دسیوں مستعد کا رکن تھے اور شب و روز کام ہوتا تھا۔مسٹرسپیٹ جو نقشے بناتے فوراً ان کی نقول تیار کی جاتی تھیں تاکہ مسلم لیگ کے وکیل کو کسی مرحلہ پر بھی کوئی نقطہ واضح یا پیش کرتے وقت کسی قسم کی کوئی دقت پیش نہ آئے۔پیش آمدہ ایک الجھن راقم الحروف کو اب تک یاد ہے۔ہند و غلط اعداد و شمار کا سہارا لے رہے تھے جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ضلع میں مردم شماری کے تفصیلی اعداد و شمار کے رجسٹر ( جن میں تحصیل وار، تھانہ وار اور دیہہ واراندراج ہوتا تھا) وہ ریکارڈ آفس سے اڑا لئے گئے تھے۔کانگرس پر یقین تھی کہ اب اس کی طرف سے جو اعداد و شمار بھی پیش کئے جائیں گے ان کی تردید نہ ہو سکے گی لیکن ادھر صاحبزادہ حافظ میرزا ناصر احمد نے (اپنے ذرائع سے پتہ چلا لیا تھا کہ ان اعداد و شمار کی دوسری کا پی گورنمنٹ کے ریکارڈ میں اب بھی موجود ہے۔چنانچہ اس ریکارڈ کے حصول کے لئے اس ناچیز کے یہ خدمت سپرد ہوئی کہ گورداسپور جا کر فلاں تہ شخص سے ملے اور بحفاظت متعلقہ ریکارڈ لے آئے۔دومستعد نوجوان بھی بغرض حفاظت متعلقہ 296