کشمیر کی کہانی — Page 277
ہو گئے۔چنانچہ انہوں نے بارہ مولہ میں منعقدہ ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں سرکاری زبان کا مسئلہ پیش کر کے اس کی تائید اور پھر دیوناگری رسم الخط کی منظوری حاصل کرلی۔اور یوں کانگرس کے نظریات کی تائید کرائی۔اس اجلاس میں چودھری غلام عباس نے شرکت نہ کی شاید اس لیے کہ انہیں اب اپنی سیاسی لغزش اور اپنے اصل مسلک سے ہٹ جانے کا احساس ہو چلا تھا۔۱۹۴۰ء میں شیخ محمد عبد اللہ نے پنڈت نہر وکوکشمیر کا دورہ کرنے کی دعوت دی جس کے لیے ریاست کے متمول ہندوؤں کے علاوہ پنجاب کے ہندو تاجروں نے بھی منہ مانگا سرمایہ پیش کیا۔پنڈت جی نے دس دن تک ریاست میں قیام کیا اور اس کے مختلف حصوں کا دورہ کیا۔جس کے نتیجہ میں درنیشنل کانفرنس، مستقل طور پر آل انڈیا کانگرس کی باندی بن گئی۔جوں جوں ریاست میں آل انڈیا کانگرس کا موقف اور ہندوؤں کا اثر ونفوذ بڑھتا چلا گیا۔جمہور مسلمانوں میں اپنی تو قعات کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جانے کا احساس بھی گہرا ہوتا چلا گیا۔چنانچہ اکتوبر ۴۰ ء میں اُن کی طرف سے ایک مفصل اعلان اخبارات میں مندرجہ ذیل مفہوم کا شائع ہوا۔واشگاف اعلان دومسلم کانفرنس کی طرف سے عنقریب ایک اہم اجلاس طلب کیا جائے گا۔جس میں تمام ہمدردان ملت اور بہی خواہانِ مسلم کانفرنس کو شمولیت کی دعوت دی جائے گی تا کہ وہ ایک جگہ جمع ہو کر کوئی مفید لائحہ عمل مرتب کر سکیں مسلم کا نفرنس کی تمام شاخوں کا فرض ہوگا کہ وہ وقت اور تاریخ مقررہ پر اپنے نمائندوں کو اس میں شامل ہونے کے لیے بھیجیں۔بلکہ اپنے 281