کشمیر کی کہانی — Page 276
جریدہ تن تنہا نہ صرف اپنے مسلک پر قائم رہا۔بلکہ حق کے لیے شمشیر برہنہ کا کام دیتا رہا۔مسلم کانفرنس کا وجود تو ایک تسبیح کی مانند تھا۔جس سے ٹوٹتے ہی اس کے تمام موتی زمین پر ادھر اُدھر بکھر گئے۔عوام نے بہت شدت کے ساتھ محسوس کرنا شروع کر دیا کہ نیشنل کانفرنس سے ٹھوس توقعات وابستہ کر نالا حاصل ہے۔چنانچہ جلد ہی ایک انجمن " مسلم لیگ کے نام سے قائم ہوگئی اور اس کے معابعد گوجر قوم نے جو لاکھوں افراد پر مشتمل تھی اپنی علیحدہ تنظیم قائم کر لی۔ہندوؤں کی پہلی فتح اسی سال او آخر ستمبر میں جب اسلام آباد میں جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کا اجلاس منعقد ہوا تو دوسری جنگ عظیم شروع ہو چکی تھی۔اور کانگرس ہندو قوم کو سارے ہندوستان (بشمول ریاست ہائے ) کی حاکمیت حاصل کرنے کے لیے پر تول رہی تھی۔نیشنل کانفرنس نے بھی اس اجلاس میں جو قراردادیں منظور کیں وہ صد فیصد انڈیا نیشنل کانگرس کی تائید میں تھیں۔یہ دیکھ کر چودھری غلام عباس کسی قدر تلملائے لیکن معاملہ ے اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت والا تھا۔لہذا منقار زیر پر رہے۔بلا شبہ یہ ہندوؤں کی پہلی فتح تھی۔جو انہیں چند ماہ کی داخلی لفظی کوشش سے ہی حاصل ہو گئی تھی۔اور وہ اعلان جو پنڈت جیالال کلم نے جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس بننے کے موقع پر کیا تھا۔اس کی ہو بہو عملی تعبیر۔پنڈت نہرو کا دورہ کشمیر اجلاس اسلام آباد کے بعد شیخ محمد عبد اللہ نے تقاریر کا ایک طوفانی سلسلہ شروع کیا۔جس سے ہندوؤں کے مسلک کی گھر بیٹھے بٹھائے تبلیغ ہونے لگی۔ان کے حو صلے اور بلند 280