کشمیر کی کہانی — Page 275
-6 -7 مذہبی پابندیوں کا سوال اور ہندوؤں کی وسعت قلبی اور 7 اپنی ناکامی کا اقرار کا نفرنسی راہنماؤں کی اپنی زبان سے اور اپنے سلسلہ مضامین کو ان الفاظ پر ختم کرتے ہوئے کہا: یہ تمام حالات وکوائف اس امر کے حق میں ہیں کہ مسلمانوں کی جداگانہ تنظیم کا قیام از حد ضروری تھا اور ہے۔اب سوال یہ ہو سکتا ہے کہ اگر ہر ایک قوم اپنی اپنی تنظیم علیحدہ قائم رکھے تو اتحاد کس طرح سے ہو۔۔۔۔۔۔؟ پھر اس سوال کی تشریح وتوضیح اور کافی وشافی جواب کے لیے یکے بعد دیگرے پانچ معنی خیز مقالے مندرجہ ذیل موضوعات کے تحت سپرد قلم کئے۔مذہبی رواداری کے قیام کی ضرورت مذہبی رواداری اور سیاسی مواخات کی اشد ضرورت سیاسی رواداری کے قیام کے ذرائع اتحاد شکنوں کو سزا اور مجلس اقوام کی ضرورت بنی آدم اعضائے یکہ یکہ نہ احساس کروٹیں لینے لگا یہ مضامین جوں جوں عوام تک پہنچتے گئے ان کے دلوں میں اپنے کئے کرائے پر پانی پھر جانے اور اپنے راہنماؤں کی شدید سیاسی لغرش کا احساس گہرا ہوتا چلا گیا۔ہر طرف سے خطوط کا تانتا بندھ گیا۔جو مناسب تدوین کے بعد زیب صفحات اصلاح “ ہوتے رہے۔الغرض لیڈروں نے نیشنلزم کی چکا چوند سے مسحور ہو کر اپنے عوام سے منہ پھیر لیا۔یہ 279