کشمیر کی کہانی — Page 183
کہتے ہیں دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔مولا نامیرک شاہ پنجاب کے اخبارات میں مضامین بھجواتے ان پر ”صور اسرافیل‘ نام لکھتے۔مولانا ظہور الحسن ناصر میر پوری اور مولوی محمد سعید "رجل " یسعی“ تھے۔مسٹر عبدالمجید قرشی نے بھی کئی مضامین لکھے یہ سب صاحبان ۳۱ ء سے ہی اخبارات میں کچھ نہ کچھ لکھتے چلے آرہے تھے۔اور قرشی صاحب نے تو مضامین لکھنے کا خمیازہ بھی ملازمت سے معطلی اور پھر جبری استعفاء کی صورت میں بھکت لیا۔اور اس طرح قومی خدمت کے لیے سب سرکاری پابندیوں سے آزاد ہو گئے۔وکلاء کی مساعی کشمیر کمیٹی کے بھجوائے ہوئے وکلاء بھی کشمیر کے لیڈروں سے کسی طرح کم ہر دلعزیز نہ تھے۔چنانچہ مسلم کا نفرنس کی کامیابی میں شیخ بشیر احمد (ایڈووکیٹ)۔شیخ محمد احمد (ایڈووکیٹ )۔میر محمد بخش ( وکیل )۔چودھری اسد اللہ خاں ( بیرسٹر )۔چودھری عزیز احمد ( وکیل )۔چودھری عصمت اللہ (وکیل ) چودھری یوسف خاں (وکیل ) اور قاضی عبدالحمید (وکیل ) سبھی کا حصہ ہے۔اسی طرح چودھری محمد عظیم باجوہ۔مولوی ظہور الحسن، لیفٹینٹ محمد اسحاق نے بھی خوب سرگرمی سے کام کیا۔یہ سب صاحبان کشمیر کے مختلف علاقوں میں کام کر رہے تھے۔اور انھوں۔نے اپنے اپنے علاقوں سے مسلم کانفرنس کے لیے نمائندگان تیار کئے۔کیونکہ مسلم کانفرنس کے بانیوں کو اس وقت تک اتنے وسائل میسر نہ تھے کہ ہر جگہ کا دورہ کر سکتے۔سید حبیب شاہ سری نگر میں روز نامہ ”انقلاب اور اس کے دونوں مدیران مولا نا عبدالمجید سالک اور مولانا غلام رسول مہر نے روز اول ہی سے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا ساتھ دیا تھا۔انہی کی طرح روز نامہ ”سیاست اور اس کے مدیر مولانا سید حبیب شاہ بھی ہر طرح سے مُمد رہے۔انھیں آل انڈیا 187