کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 168 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 168

وائسرائے ہند کے پاس وفد ۱/۴اپریل ۳۲ء کو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ایک وفد نے چودھری محمد ظفر اللہ خاں کی قیادت میں دہلی میں وائسرائے ہند سے ملاقات کی۔یہ وفد ہندوستان کے حقیقی نمائندوں پر مشتمل تھا۔چنانچہ اس میں ڈاکٹر شفاعت احمد ،مولانا شفیع داؤدی، مسٹر اے۔ایچ غزنوی ،نواب عبدالحفیظ خاں، کیپٹن شیر محمد خاں ڈومیل، نواب ابراہیم علی خاں آف کنجچورہ ، شاہ مسعود احمد، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ، خاں بہادر رحیم بخش، سید محسن شاہ ، شیخ فضل حق پراچہ، سید حبیب شاہ اور مولانا عبدالرحیم در دشامل ہوئے۔اس موقع پر وائسرائے کو جوتحریری میموریل پیش کیا گیا۔اس میں افسوس کے ساتھ اس امر کا اظہار کیا گیا تھا گلینسی کمیٹی میں مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے بہت کم نمائندگی دی گئی ہے۔اور پھر جو ممبر بنائے گئے ہیں وہ مسلمانوں کے حقیقی نمائندہ نہیں ہیں۔دستوری معاملات میں انہیں کسی قسم کا تجربہ حاصل نہیں۔مسلمانوں کے اصل رہنما جیلوں میں بند ہیں۔ریاست کے افسران انتقام لینے کی خاطر مسلمانوں کو جبر و استبداد کا تختہ مشق بنا رہے ہیں۔مسلمان خوف زدہ ہو کر کثیر تعداد میں جموں اور کشمیر سے برطانوی علاقہ میں پناہ گزیں ہور ہے ہیں۔غرض مسلمانان کشمیر پر مظالم کے خلاف پر زور احتجاج کرتے ہوئے اُن کے حقوق کے منصفانہ تصفیہ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اور سیاسی قیدیوں کی رہائی اور خوف و ہراس کو دور کرنے کے لیے فوری اور مؤثر کا روائی کرنے کی اپیل نیز مہاراجہ کو فوری ہدایات جاری کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔وائسرائے نے تمام امور پر فوری اور ہمدردانہ غور کا وعدہ کیا۔172