کشمیر کی کہانی — Page 122
ایک عورت جو گھاٹ پر پانی لینے جارہی تھی گولی سے موت کے گھاٹ اُتار دی گئی اور متعد دلوگ زخمی ہوئے۔احتجاجی تار محترم صدر کمیٹی نے ایک طرف مہاراجہ کشمیر سے تار کے ذریعہ احتجاج کیا اور لکھا کہ اس وقت جو کاروائیاں ریاست میں ہورہی ہیں۔ان سے کبھی امن قائم نہیں ہو سکے گا۔دوسری طرف وائسرائے ہند کو ایک لمبا تفصیلی تارد یا جس میں لکھا کہ آپ کے یقین دلانے پر مجھے اطمینان ہو چلا تھا کہ کشمیریوں کی شکایات دور کر دی جائیں گی۔اور ریاست اپنی متشد دانہ پالیسی ترک کر دے گی۔یہ اطمینان دلانے پر میں نے ریاست کے اندر اور باہر اس امر کے لیے پوری پوری کوشش کی۔کہ وہ لوگ پُر امن رہیں اور کلینسی اور مڈلٹن کمیشنوں نیز مسٹر جنگز اور مسٹر لا تھر سے تعاون کریں۔لیکن ہماری مصالحانہ مساعی کے باوجود ریاستی حکام انتہائی تشدد میں مصروف رہے اور ان کے لیڈروں کو گرفتار اور ایک کو ریاست بدر کر دیا گیا ہے۔یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہوا ہے جب کہ میری ہدایت پر سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی جموں میں امن کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔۔۔۔" اس تار کے آخر میں صدر محترم نے جو کچھ لکھا وہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھا۔آپ نے لکھا:۔میں ایک بار پھر آپ سے اپیل کرتا ہوں۔کہ فوری مداخلت کر کے حالات کو بد سے بدتر صورت اختیار کرنے سے بچائیں۔اگر آپ کے لیے 126