کر نہ کر — Page 33
33 پیدا کر۔تو جھگڑے اور فساد والی باتوں سے بہت پیچ صرف ظاہری آؤ بھگت کا نام اخلاق نہیں * تو اوچھے پن سے پر ہیز کر۔ہے بلکہ وہ عادات پیدا کر جو اصلی اور بچے کا تو ذراسی خوشی میں پھول نہ جایا کر۔اخلاق ہیں۔یعنی ایسے اخلاق جن میں یہ تو ذراسی ناراضگی میں آپے سے باہر نہ مخلوق کی خیر خواہی اور خدا کی رضا کی ہو جایا کر۔طلب مضمر ہو۔د تو تلون مزاجی کی عادت چھوڑ دے۔تو اپنے عیبوں کی آپ اصلاح کرتا کہ پی تو کسی کی ہاں میں ہاں ملانے کی عادت دوسرےلوگ تیرے عیب نہ نکالیں۔چھوڑ دے۔ا تو نیکی اور سلوک کرتے وقت صرف ہم جو کام تیرے سپرد کیا جائے اُسے بیگار قوم اور ہم مذہب کا خیال نہ کر۔ہاں اُن کے طور پر نہ ٹال بلکہ شوق۔محنت اور سلیقہ کے ساتھ کر۔کو مقدم کر سکتا ہے۔تجھ پر تینوں قانونوں کی پابندی لازم ہے تو صحت کو برباد کرنے والی عادتوں سے بچ قانون قدرت ، قانون شریعت اور یا تو اپنے بزرگوں سے گستاخی سے پیش نہ آ۔قانونِ سلطنت۔تو بے قاعدگی کی عادت اختیار نہ کر۔تو اپنی خطاؤں کو یا درکھتا کہ پھر ویسی غلطی یہ تو پستی خیالات کو چھوڑ دے۔نہ ہو۔تو مطلب براری کی عادت اختیار نہ کر۔یا تو بُرائی پر اصرار نہ کر۔ا تو تکلف کی عادت اختیار نہ کر۔لا تو لاف و گزاف سے بچ۔تو شہرت طلبی کی خواہش چھوڑ دے۔ا تو ڈون ہمتی سے پر ہیز کر۔تو تحسین طلبی کی خواہش نہ کر۔تو سہل انگاری چھوڑ دے۔تو لوگوں کی تحقیر نہ کیا کر۔ہی تو لا پرواہی کی عادت اختیار نہ کر۔تو صرف دولت کی وجہ سے کسی کی تعظیم نہ کر