کر نہ کر — Page 9
چیزوں پر دھتے نہ ڈال۔کوشاں رہ۔تو کھانا کھا کر اپنے ہاتھ اس طرح دھو کہ جی اے خاتون! تو نامحرم کے رو برو اپنی انگلیوں پر چکنائی اور ہلدی کا اثر باقی نہر ہے۔زینت کو ظاہر نہ کر۔تو روشنائی سے اپنے ہاتھوں اور کپڑوں کو یہ تو آستین سے اپنی ناک نہ پونچھ۔ملا جب تو بازار میں سے گزرے تو راہ خراب نہ کر۔کے مرد! تو عورتوں کی طرح بناؤ سنگار گزاروں کو سلام کر کسی کا راستہ نہ روک۔میں نہ لگارہ۔اور سڑک کے ایک طرف ہوکر چل۔لا تو مکان کی دیواروں اور فرش کو اپنے ہی تو ایسی انجمنوں ،سوسائیٹیوں یا کمیٹیوں کا تھوک یا پان کی پیک سے آلودہ نہ کر۔ممبر بن جن کا کام غریبوں کی امداد، نیکی تو اپنے ناخن دانتوں سے نہ گتر اکر۔کی اشاعت اور پبلک کو فائدہ پہنچانا ہو۔ا تو حتی الوسع لفافہ کو تھوک سے نہ چپکا، بلکہ یہ تو ایسی انجمنوں کا ممبر بن جن کا کام فتنہ و فساد کوروکنا، امن و آسائش کا پیدا کرنا اور پانی لگا۔تو مجلس میں اپنی انگلیاں نہ چٹا۔لوگوں کی اصلاح کرنا ہو۔تو کسی مجلس میں ہو تو نہ لیٹ۔تو کسی خطرناک ہتھیار کا رُخ کسی انسان تو آنکھیں مار کر یا مٹکا کر باتیں کرنے کی کی طرف نہ کر۔عادت نہ ڈال۔تو مسجدوں میں اور پبلک جلسوں میں تو اپنا کپڑا یا کتاب مُنہ سے نہ چوسا کر۔اپنے اچھے کپڑ پہن کر حاضر ہوا کر۔اور نہ گستر اکر۔اپنے بچوں کو بُری باتوں سے روک تو حتی الوسع اپنی بیٹی کی شادی پندرہ سولہ اچھی باتوں کی ترغیب دے اور اُن کو سال کی عمر میں کر دے۔تکلیف کی برداشت سکھا۔ا تو جوان بیوہ عورت کی شادی کے لئے یا تو حتی الوسع ہمیشہ مہذب طریقہ سے