کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 86 of 279

کرامات الصادقین — Page 86

كرامات الصادقين ۸۶ اُردو ترجمہ فَقُلْتُ لَهُ لَمَّا أَبَى إِنَّ حُجَّتِي لَقَدْ تَمَّ وَاللَّهُ الْعَلِيمُ سَيَأْمُرُ جب اس نے انکار کیا تو میں نے اسے کہہ دیا کہ میری محبت بے شک تمام ہو چکی ہے اور اب خدائے علیم ضرور کوئی حکم دے گا۔ وَ إِنْ شِئْتَ سَلُ مَنْ كَانَ فِيْنَا حَاضِرًا وَمَا قُلْتُ إِلَّا مَا هُوَ الْمُتَقَرِّرُ اگر تو چاہے تو پوچھ لے اس شخص سے جو ہم میں موجو دتھا اور میں نے وہی بات کہی ہے جو ثابت شدہ ہے ۔ وَبَاهَلَنِي مِنْ غَزْنَوِتِينَ مُكْفِرٌ وَقُوْفًا لَّدَى شَجَرَاتِ أَرْضٍ يَشْجَرُ اور غزنویوں میں سے ایک کا فرٹھہرانے والے نے مجھ سے مباہلہ کیا جب کہ وہ درختوں والی زمین کے پاس کھڑا ہو کر جھگڑا کر رہا تھا۔ فَقُمْتُ بِصَحْبِى لِلدُّعَاءِ مُبَاهِلًا وَكَانَ مَعِي رَبِّي يَرَانِي وَيَنْظُرُ تو میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ دعا کیلئے مباہلہ کرتا ہوا کھڑا ہو گیا اور میرا رب میرے ساتھ تھا۔ مجھے دیکھ رہا تھا اور مجھ پر نظر کر رہا تھا۔ فَصُعِدَ صَرُحُ الصَّادِقِينَ إِلَى السَّمَا لِمَا أَخَذَتْهُمْ رِقَةٌ وَتَاثُرُ سو صادقوں کی فریاد آسمان تک پہنچ گئی کیونکہ ان پر رقت اور تاثر طاری ہو گئے ۔ فَأَعْجَبَ خَلْقًا جَيْشُهُمْ وَبُكَاؤُهُمْ فَبَكَوُا بِمَبْكَاهُمْ وَقَامَ الْمَحْشَرُ سولوگوں کو ان کے جوش اور رونے نے حیران کر دیا کہ ان کو روتا دیکھ کر وہ بھی رو پڑے اور ایک قیامت برپا ہوگئی ۔ وَ ظَلَّ المُبَاهِلُ يَقْذِفَنَّ مُكَفِّرًا فَيَا عَجَبًا مِّنْ دِينِهِمْ كَيْفَ كَفَرُوا اور ( غزنوی ) مباہل تکفیر کرتے ہوئے تہمت لگا تا رہا۔ ان کے دین پر تعجب ہے کہ انہوں نے کیسے تکفیر کی ۔ ۱۷۸