کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 85 of 279

کرامات الصادقین — Page 85

كرامات الصادقين ۸۵ اُردو ترجمہ حَلَفْتُ يَمِينًا مِّنْ لِعَانٍ مُّوَّكَّدٍ فَإِنِّي بِمَيْدَانِ اللَّعَانِ سَاحُضُرُ میں نے مؤکد لعنت کے ساتھ حلف اٹھایا کہ میں مباہلہ کے میدان میں ضرور حاضر ہو جاؤں گا۔فَإِذَا أَتَى بَعْدَ التَّرَصُّدِ يَوْمُنَا فَقُمْتُ وَلَمُ أَكْسَلْ وَمَا كُنْتُ أَقْصُرُ پھر جب انتظار کے بعد ہمارا وہ دن آ گیا تو میں اٹھ کھڑا ہوا اور نہ میں نے سستی کی اور نہ میں کوتا ہی کرنے والا تھا۔خَرَجْنَا وَخَلْقٌ كَانَ يَسْعَى وَرَاءَنَا لِيَنْظُرَ كَيْفَ يُبَاهِلَنُ وَيُكَفِّرُ ہم نکل کھڑے ہوئے اور لوگ ہمارے پیچھے تیزی سے آ رہے تھے تا کہ وہ دیکھیں کہ وہ شیخ کس طرح مباہلہ کرتا ہے اور تکفیر کرتا ہے۔فَجَاءَ وَلَكِنْ لَمْ يُبَاهِلُ مَخَافَةً وَأَعْرَضَ حَتَّى لَامَ مَنْ هُوَ يُبْصِرُ سو وہ آتو گیا لیکن ڈر کے مارے اس نے مباہلہ نہ کیا اور مباہلہ سے اعراض کیا یہاں تک کہ دیکھنے والے اسے ملامت کرنے لگے۔وَ لَمْ يَتَمَالَكَ اَنْ يُبَاهِلَ كَالْفَتَى وَظَلَّ يُرِيْنَا ظَهْرَ جُبْنِ وَيُدْبِرُ اور اسے قدرت نہ ہوئی کہ ایک جوان مرد کی طرح مباہلہ کرے اور وہ ہمیں بزدلی کی پیٹھ دکھاتا رہا اور پیٹھ پھر گیا۔وَجَاشَتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ خَوْفًا وَخَشْيَةٌ وَقَدْ خِفْتُ أَنْ يُغْشَى عَلَيْهِ وَ يُخْطَرُ اور وہ خوف اور ڈر کے مارے ہانپنے لگا اور میں ڈرا کہ اس پر غشی طاری ہو جائے گی اور وہ خطرے میں پڑ جائے گا۔وَوَجَدْتُهُ بَحَرًا وَّمُوْجِسَ خِيْفَةٍ كَانَ حُسَامِي يَهْجَمَنُ وَيُبَيِّرُ اور میں نے اسے سخت مبہوت اور خوف کا احساس رکھنے والا پایا۔گویا کہ میری تلوار ضر ور حملہ کر دے گی اور (اسے) کاٹ ڈالے گی۔122