کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 279

کرامات الصادقین — Page 81

۴۵ اُردو ترجمہ ΔΙ كرامات الصادقين فَذَرْنِي وَخَلَّاقِي وَلَسْتَ مُصَيْطِرًا عَلَيَّ وَلَا حَكَمْ وَقَاضٍ فَتَأْمُرُ تو مجھےاور میرے پیدا کرنے والے کو چھوڑ دے۔مجھ پر تو کوئی داروغہ نہیں ہے اور نہ حکم اور قاضی ہے کہ تو حکم چلائے۔وَ أَثَرَنِي رَبِّي وَاَخْزَاكَ خَالِقِي فَقَدْ ضَاعَ يَا مِسْكِينُ مَا كُنتَ تَبْدُرُ میرے رب نے مجھے پسند کیا ہے اور میرے خالق نے تجھے رسوا کیا ہے اور بے شک اے مسکین ! ضائع ہو چکا ہے جو تُو ہوتا رہا تھا۔الَيْسَتْ تُقَاةُ اللَّهِ شَرْطًا لِمُؤْمِنٍ فَمَا لَكَ يَوْمَ الْأُخُذِ لَا تَتَذَكَّرُ کیا خدا کا تقویٰ مومن کے لئے شرط نہیں ؟ تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو گرفت کے دن کو یا دنہیں کرتا۔وَعَدَوْتَ حَتَّى قُلْتَ لَسْتُ بِائِبِ وَإِنَّ الْهُدَى بَعْدَ الْقِلَى مُتَوَعِرُ اور تُو نے حد سے اتنا تجاوز کیا کہ کہ دیا کہ میں تو (اب) واپس آنے والا نہیں ہوں اور یقینا دشمنی کے بعد ہدایت پانا مشکل ہے۔اتُفْتِى بِمَا لَمْ يُنْزِلِ اللَّهُ مِنْ هُدًى وَتُكْفِرُ مَنْ الْقَى السَّلَامَ وَ تَجْسُرُ کیا تو ایسی بات کا فتویٰ دیتا ہے جس کے لئے اللہ نے کوئی ہدایت نازل نہیں کی اور جو سلام لے اسے کافر قرار دیتا ہے اور دلیری کرتا ہے۔وَوَاللهِ بَلْ تَاللَّهِ لَوْ كُنتَ مُخْلِصًا اَرَيْتُكَ آيَاتٍ وَلَكِنْ تُزَوِّرُ بخدا! اللہ کی قسم! اگر تو مخلص ہوتا تو میں تجھے نشانات دکھا تا لیکن تو تو قریب کر رہا ہے۔وَلَوْ قَبْلَ اكْفَارِي سَاَلُتَ اَمَانَةٌ لَعَمُرِى هُدِيْتَ وَ صِرْتَ شَيْخًا يُبْصِرُ اور اگر تو از راه دیانت مجھے کافر ٹھہرانے سے پہلے (مجھ سے) پوچھ لیتا تو مجھے قسم ہے کہ تو ہدایت پاتا اور ایک صاحب بصیرت شیخ بن جاتا۔۱۷۳