کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 279

کرامات الصادقین — Page 64

كرامات الصادقين ۶۴ اُردو ترجمہ وَ كَمْ مِّنْ دَوَابٌ الْأَرْضِ يَحْيَى مُدَّةً عَلَى ظَهْرِهَا فَاعْجَبُ لِهَذَا وَ فَكِّرُوا ویسے زمین پر رینگنے والے بہت سے جانور بھی تو مدت تک زندہ رہتے ہیں اسکی سطح پر ۔ پس تو اس معاملے پر تعجب کرتا رہ اور تم سب لوگ بھی سوچو۔ وَ إِنَّ جُنُودَ الأَنْبِيَاءِ وَحِزْبَهُمُ الُوفٌ فَهَلْ تُرَيَنَّ كَابُنِكَ آخَرُ اور بے شک انبیاء کے لشکر اور ان کا گروہ ہزاروں میں ہیں ۔ پس کیا تیرے ( مفروض ) بیٹے کی طرح کوئی اور بھی دکھائی دیتا ہے۔ فَإِنْ كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ كَقَوْلِكُمْ فَشَجْرَةُ نَسُلِ اللَّهِ تَنْمُو وَتَكْفُرُ اگر تمہارے قول کے مطابق کوئی خدائے رحمان کا بیٹا ہوتا تو اللہ کا شجرہ نسل ( تو ) بڑھ جاتا اور کثرت پا جاتا ۔ ابُدِّلَ سُنَّةُ رَبِّنَا بَعْدَ مُدَّةٍ اَيُمْكِنُ فِي سُنَنِ الْقَدِيمِ تَغَيُّرُ کیا ہمارے رب کی سنت ایک مدت کے بعد تبدیل ہو گئی ہے؟ کیا از لی خدا کے دستور میں کوئی تغیر ممکن ہے؟ وَقَانُونُ سُنَنِ اللَّهِ فِي بَعْثِ رُسُلِهِ مُبِينٌ فَهَلْ أَبْصَرْتَ أَوْ لَا تُبْصِرُ الہی دستور کا قانون تو اپنے رسولوں کے بھیجنے میں واضح ہے۔ پس کیا تو نے بصیرت سے کام لیا ہے یا تو دیکھ ہی نہیں سکتا ؟ وَإِن لَّمْ تَرَ الْيَوْمَ الْهُدَى فَتَرَى غَدًا ظَلَامًا مُهِيبًا فِيهِ تَهْوِي وَتُنْدَرُ اور اگر آج تو ہدایت کو نہ پاسکا تو کل تو دیکھے گا ہیبت ناک تاریکی کو جس میں تو گرے گا اور ہلاک ہو جائے گا ۔ اتَخْلَعُ جَهْلًا رِبْقَةَ الْعَقْلِ وَ النُّهَى لَا قُوَالِ قَوْمٍ قَدْ أَضَلُّوا وَ دُمِّرُوا کیا تو جہالت سے عقل و دانش کا پٹہ اتار رہا ہے ایسے یسے لوگوں کی باتوں کی خاطر جنہوں نے (اوروں کو ) گمراہ کیا اور ( خود بھی ) ہلاک ہو گئے ۔ ۱۵۶