کرامات الصادقین — Page 59
كرامات الصادقين ۵۹ اُردو ترجمه وَيَبْقَى إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ دِينُهُ لَهُ مِلَّةٌ بَيْضَاءُ لَا تَتَغَيَّرُ اور قیامت کے دن تک آپ کا دین باقی رہے گا۔آپ کا روشن دین کبھی نہیں بدلے گا۔وَنُؤْثِرُ فِى الدَّارَيْنِ سُنَنَ رَسُولِنَا وَسُنَّةُ خَيْرِ الرُّسُلِ خَيْرٌ وَّ اَزْهَرُ اور ہم دونوں جہان میں اپنے رسول ﷺ کے طریقوں کو پسند کرتے ہیں اور خیر الرسل کا طریق ہی بہتر اور زیادہ روشن ہے۔فَلَمَّا عَرَفْتَ الْحَقَّ دَعْ ذِكْرَ بَاطِلٍ وَلَوْ لِلصَّدَاقَةِ مِثْلَ بَكْرٍ تُنْهَرُ جب تو نے حق کو پہچان لیا تو باطل کا ذکر چھوڑ دے خواہ صداقت کی خاطر تجھے نو جوان اونٹ کی طرح ڈانٹ ڈپٹ کی جائے۔وَلَا أَيُّهَا النَّرْثَارُ خَفْ قَهُرَ قَاهِرٍ وَيَعْلَمُ رَبِّي مَا تُسِرُّ وَتَخْمَرُ خبر داراے بکواسی ! قہار کے قہر سے ڈر اور میرا رب جانتا ہے جو تو چھپاتا ہے اور جس پر تو پردہ ڈالتا ہے۔فَلَا تَقْفُ مَالَا تَعْرِفَنَّ وُجُوهَهُ وَثَابِرُ عَلَى الْحَقِ الَّذِي هُوَ اَظْهَرُ پس تو پیروی مت کر ان باتوں کی جن کے پہلوؤں سے تو واقف نہیں اور اس سچائی پر دوام اختیار کر جو خوب واضح ہے۔وَوَاللهِ مَا كَانَ ابْنُ مَرْيَمَ خَالِقًا فَلَا تَهْلِكُوا بَغْيًا وَّ تُوبُوا وَاحْذَرُوا اور اللہ کی قسم ! ابن مریم خالق نہیں تھا۔پس تم لوگ سرکشی سے ہلاک نہ ہو جاؤ اور تو بہ کرو اور ڈرو۔وَلَا تَعْجَبَنُ مِنْ أَنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَبِ وَ كَمِثْلِ هَذَا الْخَلْقِ فِي الدُّوُدِ تَنْظُرُ اس بات پر حیران نہ ہو کہ وہ باپ سے پیدا نہیں ہوا جب کہ اس جیسی مخلوق تو کیٹروں میں بھی دیکھتا ہے۔۱۵۱