کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 49 of 279

کرامات الصادقین — Page 49

۳۳۵ اُردو ترجمه ۴۹ كرامات الصادقين وَ بَارَزْتُ اَحْزَابَ النَّصَارَى كَضَيْغَمِ بِايْدِ وَ فِي الْيُمْنَى حُسَامٌ مُّشَهَّرُ اور میں نے نصاری کے گروہوں سے شیر کی طرح مقابلہ کیا۔پوری قوت سے جبکہ میرے دائیں ہاتھ میں کچھی ہوئی تلوار تھی۔وَمَا زِلْتُ اَرْمِيهِمْ بِرُمُحِ مُذَرَّبٍ إِلَى أَنْ آبَانَ الْحَقُّ وَ الْحَقُّ اَظْهَرُ وَمَازِلْتُ اور میں انہیں تیز نیزے بھی مارتا رہا یہاں تک کہ حق ظاہر ہو گیا اور حق ہی غالب آنے والا ہے۔وَإِنَّا إِذَا قُمْنَا لِصَيْدِ أَوَابِدٍ فَلَا الظَّبْئُ مَتَرُوفٌ وَّلَا الْعَيْرُ يُنْظَرُ اور جب ہم وحشیوں کا شکار کرنے لگتے ہیں تو نہ ہر ن چھوڑا جاتا ہے اور نہ کسی گورخر کو ڈھیل دی جاتی ہے۔وَقَتْلُ خَنَازِيرِ الْبَرَارِى وَخَرُشُهُمْ أَشَاسٌ لِقَلْبِي بَلْ مَرَامٌ اَكْبَرُ اور جنگلی خنزیروں کا قتل کرنا اور انہیں زخمی کرنا میرے دل کی خوشی ہے بلکہ مقصودِ اعظم ہے۔وَ فِي مُهْجَتِى جَيْسٌ وَاَزْعَمُ أَنَّهُ يُكَافِيُّ جَيْشَ الْقِدْرِ أَوْ هُوَ اَكْثَرُ اور میری جان میں ایک ابال ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ ہنڈیا کے ابال کے برابر ہے یا اس سے بھی بڑھ کر۔إِذَامَا تَكَلَّمُنَا وَبَارَى مُخَاصِمِي وَلَاحَتْ بَرَاهِيْنِي كَنَارٍ تَزْهَرُ اور جب ہم نے کلام کی اور میرے مخاصم نے مقابلہ کیا اور میرے دلائل روشن آگ کی طرح ظاہر ہو گئے۔فَأَوْجَسَ مَبْهُوتًا وَأَيْقَنُتُ أَنَّنِي نُصِرْتُ وَ أَيَّدَنِي قَدِيرٌ مُّظَفَرُ تو وہ مبہوت ہو گیا اور میں نے یقین کر لیا کہ میں فتح یاب ہو گیا ہوں اور قدرت رکھنے والے اور فتح دینے والے (خدا) نے میری تائید کی ہے۔۱۴۱