کرامات الصادقین — Page 39
كرامات الصادقين ۳۹ اُردو ترجمہ هَلَّا انْتَهَجُتَ مَحَجَّةَ الْأَحْيَاءِ يَا صَيدَ الرَّدَا تو کیوں زندوں کے طریق کار پر گامزن نہ ہوا ؟ اے ہلاکت کے شکار ! يَامَنُ غَدَا لِلْمُؤْمِنِينَ اشَدُّ بُغْضًا كَالْعِدًا اے وہ شخص جو مومنوں کے لئے دشمنوں کی طرح شدید ترین بغض رکھنے والا ہو گیا ہے ! اخْتَرْتَ لَذَّةَ هَذِهِ وَنَسِيتَ مَا يُعْطَى غَدَا تو نے اس دنیا کی لذت کو اختیار کر لیا اور جو گل ملے گا اسے بھلا دیا ہے۔ يَا خَاطِبَ الدُّنْيَا الدَّنِيَّةِ قَدْ هَلَكْتَ تَجَلُّدًا اے حقیر دنیا کے طالب ! تو گناہوں پر دلیری کی وجہ سے ہلاک ہو گیا ہے۔ عَادَيْتَ أَهْلَ وَلَايَةٍ وَقَفَوْتَ اثَارَ الْعِدًا تو نے (اللہ سے ) دوستی کرنے والوں سے دشمنی کی اور دشمنوں کے نشانِ قدم پر چلا ہے۔ الْيَوْمَ تُكْفِرُنِي وَتَحْسَبُنِي شَقِيًّا مُلْحِدًا آج تو مجھے کا فر کہتا ہے اور مجھے بد بخت اور بے دین خیال کرتا ہے ۔ و تَرى بِوَقْتِ بَعْدَهُ فِي زِيِّ أَحْمَدَ أَحْمَدَا اور تو کسی وقت اس کے بعد احمد کو احمد کے لباس میں دیکھ لے گا۔ يَامَنْ تَظَنَّى الْمَاءَ مِنْ حُمُقِ سَرَابًا وَاعْتَدى اے وہ شخص جس نے بے وقوفی سے سراب کو پانی خیال کیا اور حد سے بڑھ گیا ! السَّبُرُ سَهْلٌ هَيِّنٌ إن كَانَ فَهُمْ أَوْ صَدَا آزمائش سہل اور آسان ہو جاتی ہے اگر فہم یا پیاس موجود ہو۔ وَاللَّهِ لَوْ كُشِفَ الْغِطَاءُ وَجَدْتَنِي عَيْنَ الْهُدَى اللہ کی قسم ! اگر پردہ کھول دیا جاتا تو تو مجھے ہدایت کا چشمہ پاتا۔ وَنُظِمْتَ فِي سِلْكِ الرِّفَاقِ وَجِتَنِي مُسْتَرْشِدَا اور تو پرو دیا جاتا میرے رفقاء کی لڑی میں ۔ اور میرے پاس ہدایت کا طالب ہو کر آتا۔ ۱۳۱