کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 279

کرامات الصادقین — Page 30

E كرامات الصادقين ۲۵ بداندیش کی نسبت الہام ہو چکا ہے کہ اِنّى مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ لِهَا نَتَكَ اس لئے یہ کوششیں شیخ جی کی ساری عبث ہوں گی اور اگر کوئی مولوی شوخی اور چالا کی کی راہ سے شیخ صاحب کی حمایت کے لئے اُٹھے گا تو منہ کے بل گرایا جائیگا۔خدا تعالیٰ ان متکبر مولویوں کا تکبر توڑے گا اور انہیں دکھلائیگا کہ وہ کیونکر غریبوں کی حمایت کرتا ہے اور شریروں کو جلتی ہوئی آگ میں ڈالتا ہے۔شریر انسان کہتا ہے کہ میں اپنے مکروں اور چالاکیوں سے غالب آجاؤں گا اور میں راستی کو اپنے منصوبوں سے مٹا دوں گا اور خدا تعالیٰ کی قدرت اور طاقت اسے کہتی ہے کہ اے شریر میرے سامنے اور میرے مقابل پر منصو بہ باندھنا تجھے کس نے سکھایا۔کیا تو وہی نہیں جو ایک ذلیل قطرہ رحم میں تھا۔کیا تجھے اختیار ہے جو میری باتوں کو ٹال دے۔بالآخر پھر میں عامہ ناس پر ظاہر کرتا ہوں کہ مجھے اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ میں کا فرنہیں لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ مِیرا عقیدہ ہے۔اور لكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت میرا ایمان ہے میں اپنے اس بیان کی صحت پر اس قدر قسمیں کھاتا ہوں جس قدر خدا تعالیٰ کے پاک نام ہیں اور جس قدر قرآن کریم کے حرف ہیں اور جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا تعالیٰ کے نزدیک کمالات ہیں کوئی عقیدہ میرا اللہ اور رسول کے فرمودہ کے برخلاف نہیں۔اور جو کوئی ایسا خیال کرتا ہے خود اُسکی غلط فہمی ہے اور جو شخص مجھے اب بھی کا فرسمجھتا ہے اور تکفیر سے باز نہیں آتا وہ یقیناً یا در کھے کہ مرنے کے بعد اُس کو پوچھا جائیگا میں اللہ جَلَّ شَانُہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا خدا اور رسول پر وہ یقین ہے کہ اگر اس زمانہ کے تمام ایمانوں کو ترازو کے ایک پلہ میں رکھا جائے اور میرا ایمان دوسرے پلہ میں تو بفضلہ تعالیٰ یہی پلہ بھاری ہوگا۔الاحزاب: اے ۱۲۲