کرامات الصادقین — Page 259
كرامات الصادقين ۲۵۹ اُردو ترجمه إذ كنتَ عَلَمًا فخر كلّ زمان ولقد تناقل فضلك الثقلان کیونکہ تو ہر زمانے کا فخر اور روشنی کا مینار ہے اور جن وانس تیرے ہی فضل سے حصہ لیتے چلے جا رہے ہیں۔فانعَمُ ودُم بالعز والأمان ما هَزَّ ريحُ مُيَّدَ الأغصان تو خوش باش اور سدا عزت و امان کے ساتھ رہے۔جب تک کہ بادصبا شاخوں کو ہلاتی رہے۔وله رحمه الله تعالى متغزلا وممتدحًا لجناب المشار إليه حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مدح اور تعریف میں آپ رحمہ اللہ کا ایک اور قصیدہ ألا لا أرى من أحبّ بعيني و عدوّى أراه بكرةً وأصيلا میں اپنے محبوب کو آنکھ سے نہیں دیکھ رہا جبکہ اپنے دشمن کو میں صبح و شام دیکھتا ہوں۔يالقومى ويا لصحبي الْحَقُونِي و أدركونى فقد غدوتُ قتيلا اے میری قوم اور اے میرے ساتھیو ! مجھے آملوا ور میرے ساتھ شامل ہو جاؤ میں تو قتیل عشق ہو گیا۔من لحاظ راشقاتٍ بقلبي أسهما عنه لا ترى تحويلا ایسی نگاہوں سے جو میرے دل میں تیروں کی طرح کھب چکی ہیں اور وہ تیر نگاہ میرے دل سے الگ ہونا نہیں چاہتے۔وخدود أينع الشقيق عليها و رضاب مزاجه زنجبيلا ایسے رُخسار سے جن پر گل لالہ کھلے ہوتے ہیں اور ایسے لعاب دہن سے جس میں زنجیل کی آمیزش ہے۔۳۵۱