کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 255 of 279

کرامات الصادقین — Page 255

كرامات الصادقين ۲۵۵ اُردو ترجمه جاؤوا لينتصروا عليك وما دَرَوا أن الإله عليك منه لواء وہ آئے تا کہ تجھ پر غالب ہوں لیکن یہ نہیں جانتے تھے کہ خدا تعالیٰ ان سے حفاظت کے لئے تیری سپر ہے۔صالـوا ورامــوا أن يفوزوا بالذي قصدوا إليه فَصَدَّهم إعياء انہوں نے حملہ کیا اور ارادہ کیا کہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں مگر بے بسی نے انہیں روک دیا۔وتفرّقتُ أحزابهم لما رأوا أسدًا هَصُورًا كَفُّه عَضُبَاءُ جب انہوں نے خونخوار شیر کو دیکھا جس کے پنجے تیغ براں کی طرح ہیں تو اُن کے گر وہ تتر بتر ہو گئے۔ما ضَرَّهم لو آمنوا إذ جئتهم بل کذبوک فخابت الآراء اگر وہ اس وقت ایمان لے آتے جب تو اُن کے پاس آیا تھا تو اُن کا کیا بگڑتا تھا بلکہ انہوں نے تیری تکذیب کی۔پس ان کی تمام آراء نا مراد رہیں۔هيهات أن يصلوا إلى ما أملوا حتى تلينَ وتُنبتَ الصَّمّاءُ ان کا اپنی امیدوں کو حاصل کرنا ایسا ہی بعید از قیاس ہے جیسا کہ ایک ٹھوس چٹان کا نرم ہو کر روئیدگی اُگانا۔بئس الذي قصدوا إليه من الردى وتنزلتُ بقلوبهم بَأْساءُ کیا ہی بُری ہے وہ ہلاکت جس کا وہ قصد کر بیٹھے ہیں اور اُن کے دلوں پر پے در پے مصیبتیں ٹوٹ رہی ہیں۔ضلوا وقالوا إن عيسى لم يَمُتُ بل فى السماء وأيـن مـنـه سـمـاء وہ گمراہ ہو گئے اور کہتے رہے کہ عیسی فوت نہیں ہوا بلکہ آسمان میں ہے۔مگر کجا عیسی اور کجا آسمان ( پر جانا )۔۳۴۷