کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 279

کرامات الصادقین — Page 23

۲۳ كرامات الصادقين برکتیں یعنی معارف اور انسانوں کو فائدہ پہنچانے والے اُمور اس میں بھرے ہوئے ہیں اور اس لائق ہے کہ اس کو تدبر سے دیکھا جائے اور عقلمند اس میں غور کریں اور سخت جھگڑالو اِس سے ملزم ہوتے ہیں اور ہر یک شے کی تفصیل اس میں موجود ہے اور یہ ضرورت حقہ کے وقت نازل کیا گیا ہے۔ اور ضرورت حقہ کے ساتھ اُترا ہے اور یہ کتاب عزیز ہے باطل کو اس کے آگے پیچھے راہ نہیں اور یہ نور ہے جس کے ذریعہ سے ہدایت دی جاتی ہے اس میں ہر ایک شے کا بیان موجود ہے اور یہ روح ہے اور یہ کتاب عربی فصیح بلیغ میں ہے اور تمام صداقتیں غیر متبدل اس میں موجود ہیں ان کو کہدے کہ اگر جن وانس اس کی نظیر بنانا چاہیں یعنی وہ صفات کاملہ جو اس کی بیان کی گئی ہیں اگر کوئی ان کی مثل بنی آدم اور جنات میں سے بنانا چاہیں تو یہ اُن کے لئے ممکن نہ ہوگا اگر چہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔ اب اس مقام میں ثابت ہوا کہ قرآن کریم صرف اپنی بلاغت و فصاحت ہی کے رو ۱۸ سے بینظیر نہیں بلکہ اپنی ان تمام خوبیوں کی رُو سے بینظیر ہے جن خوبیوں کا جامع وہ خود اپنے تئیں قرار دیتا ہے اور یہی صحیح بات بھی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ صادر ہے اُس کی صرف ایک خوبی ہی بیمثل نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہر یک خوبی بیمثل ہوگی ۔ بلا شبہ جو لوگ قرآن کریم کو غیر محدو د حقایق اور معارف کا جامع نہیں سمجھتے وہ مَا قَدَرُوا الْقُرْآنَ حَقَّ قدرہ میں داخل ہیں ۔ خدا تعالیٰ کی پاک اور سچی کلام کو شناخت کرنے کی یہ ایک ضروری نشانی ہے کہ وہ اپنی جمیع صفات میں بے مثل ہو کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جو چیز خدا تعالیٰ سے صادر ہوئی ہے اگر مثلاً ایک جو کا دانہ ہے وہ بھی بینظیر ہے اور انسانی طاقتیں اُسکا مقابلہ نہیں کر سکتیں اور بے مثل ہونا غیر محدود ہونے کو مستلزم ہے یعنی ہر یک چیز اسی حالت میں بے نظیر ٹھہر سکتی ہے جبکہ اُس کی عجائبات اور خواص کی کوئی حد اور کنارہ نظر نہ آوے اور جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں یہی خاصیت خدا تعالیٰ کی ہر یک مخلوق میں پائی جاتی ہے مثلاً اگر ایک درخت کے پتے کی عجائبات کی ہزار برس تک بھی تحقیقات کی جائے تو وہ ہزار برس ختم ہو جائیگا مگر اس پتے کے عجائبات ختم نہیں ہونگے اور اس میں ستر یہ ہے کہ جو چیز غیر محدود قدرت سے وجود ۱۱۵