کرامات الصادقین — Page 24
۱۹ كرامات الصادقين ۲۴ پذیر ہوئی ہے اس میں غیر محدود عجائبات اور خواص کا پیدا ہونا ایک لازمی اور ضروری امر ہے اور یہ آیت که قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا۔اپنے ایک معنے کی رو سے اسی امر کی مؤید ہے کیونکہ مخلوقات اپنے مجازی معنوں کی رُو سے تمام کلمات اللہ ہی ہیں اور اسی کی بناء پر یہ آیت ہے له كَلِمَتُهُ الْقُهَا إلى مَرْيَمَ کیونکہ ابن مریم میں دوسری مخلوقات میں سے کوئی امر زیادہ نہیں اگر وہ کلمۃ اللہ ہے تو آدم بھی کلمتہ اللہ ہے اور اس کی اولا د بھی کیونکہ ہر یک چیز كُنُ فَيَكُون کے کلمہ سے پیدا ہوئی ہے اسی طرح مخلوقات کی صفات اور خواص بھی کلمات رتی ہیں 19 یعنی مجازی معنوں کی رو سے کیونکہ وہ تمام کلمه كُنْ فَيَكُون سے نکلے ہیں۔سو ان معنوں کے رو سے اس آیت کا یہی مطلب ہوا کہ خواص مخلوقات بیحد اور بے نہایت ہیں اور جبکہ ہر یک چیز اور ہر یک مخلوق کے خواص بیحد اور بے نہایت ہیں اور ہر یک چیز غیر محدود عجائبات پر مشتمل ہے تو پھر کیونکر قرآن کریم جو خدا تعالیٰ کا پاک کلام ہے صرف ان چند معانی میں محدود ہوگا کہ جو چالیس پچاس یا مثلاً ہزار جزو کی کسی تفسیر میں لکھے ہوں یا جس قدر ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک زمانہ محدود میں بیان کئے ہوں نہیں بلکہ ایسا کلمہ منہ پر لانا میرے نزدیک قریب قریب کفر کے ہے۔اگر عمداً اُس پر اصرار کیا جائے تو اندیشہ کفر ہے۔یہ سچ ہے کہ جو کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے معنے بیان فرمائے ہیں وہی صحیح اور حق ہیں مگر یہ ہرگز سچ نہیں کہ جو کچھ قرآن کریم کے معارف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے اُن سے زیادہ قرآن کریم میں کچھ بھی نہیں۔یہ اقوال ہمارے مخالفوں کے صاف دلالت کر رہے ہیں کہ وہ قرآن کریم کی غیر محدودہ عظمتوں اور خوبیوں پر ایمان نہیں لاتے اور ان کا یہ کہنا کہ قرآن کریم ایسوں کے لئے اُترا ہے جو امی تھے اور بھی اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ وہ قرآن شناسی کی بصیرت سے بکلی بے بہرہ ہیں۔وہ نہیں سمجھتے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم محض امیوں کے لئے نہیں بھیجے گئے بلکہ ہر یک رتبہ اور طبقہ کے انسان اُن کی اُمت میں داخل ہیں اللہ جَلَّ شَانُہ فرماتا ہے الكهف: ١١٠ ٢ النساء : ۱۷۲