کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 279

کرامات الصادقین — Page 234

كرامات الصادقين ۲۳۴ اُردو ترجمه الدنيا بل من الإمرة ولا يتخيرون کرتے ہیں اور اپنے نفسوں کے لئے رب العزت لأنفسهم إلا وجه رب ذى العزة کے وجہ کریم کے سوا کسی چیز کو اولیت نہیں دیتے ولا يُشجيهم إلا آن غفلة من اور حضرت احدیت کے ذکر سے غفلت کی گھڑی ذكر الحضرة يتوكلون عليه کے سوا انہیں کوئی چیز غمزدہ نہیں کرتی۔اُسی پر ويطلبون منه هداه ولا يركنون تو کل کرتے اور اُسی سے اس کی ہدایت طلب إلى الـخـلـق بـل يبتغون حُباہ کرتے ہیں اور مخلوق کا سہارا نہیں لیتے۔بلکہ ويمشون في الأرض هونًا خدا کی عطا چاہتے ہیں اور زمین پر عاجزی سے ولا يبطشون جبارين وشأنُهم چلتے ہیں وہ جابرانہ گرفت نہیں کرتے۔ہمہ جہتی ، ١٠٣ إطالة الفكرة و تحقيق الحق طويل فکری حق کی تحقیق اور حکمت کی تنقیح ان کا وتنقيح الحكمة۔يراعون فی شیوہ ہوتا ہے۔وہ انتظام ریاست میں مہذب الرياسة تهذب السياسة وفى سياست کی رعایت رکھتے ہیں۔اور تنگی اور مفلسی أوان الخصاصة والافتقار آداب کے مواقع پر صبر و استقامت کے اطوار ملحوظ خاطر التبصر والاصطبار۔ولا تفاضل رکھتے ہیں۔ان میں پر ہیز گاری اور تقویٰ کی فيهم إلا بتفاضل التقوى والتقات فضیلت کے علاوہ کوئی اور چیز وجہ فضیلت نہیں ولا ربَّ لهم إلا رب الكائنات ہوتی۔رب کائنات کے سوا ان کا کوئی رب وكل ذلك أنوار حاصلة من نہیں۔اور یہ سب انوار سورہ فاتحہ سے حاصل الفاتحة كما لا يخفى على أهل ہوتے ہیں جیسا کہ یہ امر فطرتِ صحیحہ اور اہل تجربہ الفطرة الصحيحة والتجربة۔سے مخفی نہیں۔فالحق أن الفاتحة أحاطت پس حق بات یہی ہے کہ سورت فاتحہ ہر علم اور كل علم ومعرفة واشتملت على معرفت پر محیط ہے وہ سچائی اور حکمت کے تمام كل دقيقة حق وحكمة وهى نكات پر مشتمل ہے اور یہ ہر سائل کے سوال کا تجيب كل سائل و تذيب كل جواب دیتی اور ہر حملہ آور دشمن کو تباہ کرتی ہے۔نیز ۳۲۶