کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 279

کرامات الصادقین — Page 228

كرامات الصادقين ۲۲۸ اُردو ترجمه الكتمان ولو اختفى فى مغارة چھپتا۔خواہ وہ دنیا جہان کی زمینوں کی گہرائیوں کے الأرضين فسبحان ربنا رب اندر مخفی ہو۔پس پاک ہے۔ہمارا رب جو تمام الأولين والآخرين۔اولین اور آخرین کا رب ہے۔واعلموا أيها الناظرون اے ناظرین اور اہل بصیرت علماء ! جان لو کہ والعلماء المستبصرون أن حضرت عیسی علیہ السلام نے دعا سے پہلے ایک تمہید عيسى عليه السلام علم تمهیدا سکھائی ہے اور قرآن کریم نے (بھی) دعا سے قبل الدعاء والقرآن علم تمهیدا قبل ایک تمہید سکھائی ہے اور عقل مندوں کے قبل الدعاء والفرق بينهما ظاهر نزدیک ان دونوں تمہیدوں میں فرق ظاہر ہے على أهل الدهاء فإن تمهید کیونکہ قرآن کریم کی تمہید روح کو خدائے رحمان القرآن يُحرك الروح إلى عبادة كى عبادت کی تحریک کرتی ہے اور بندوں کو ترغیب الرحمن ويحرك العباد إلى أن دیتی ہے کہ وہ خلوص نیت اور صفائی قلب سے ينتجعوا حضرته بإمحاض النية حضرت باری کی تلاش میں لگ جائیں۔نیز (یہ وإخلاص الجنان ويظهر عليهم تمهيد) انہیں بتاتی ہے کہ خدا تعالیٰ تمام رحمتوں کا أنه عين كل رحمة وينبوع جميع سرچشمہ اور تمام نوازشوں کا منبع ہے اور ربّ، أنواع الحنان ومخصوص باسم رحمان، رحیم اور دیان ( جزا سزا کا مالک) کے الرب والرحمن والرحيم ناموں سے مخصوص ہے۔جن لوگوں کو ان صفات کا والديان فالذين يطلعون على هذه علم ہو جاتا ہے وہ ان کے مالک (اللہ تعالیٰ ) الصفات فلا يزايلون أهلها ولو جُدا نہیں ہوتے خواہ وہ موت کے بیابانوں میں سقطوا في فلوات الممات بل جاگریں بلکہ وہ اُس کی طرف دوڑتے ہیں اور يسعون إليه ويوطنون لديه صدق قلب اور صحت نیت سے اُسی کے پاس بصدق القلب وصحة النيات ڈیرے جما لیتے ہیں۔اس کی طرف اپنے گھوڑے ويتراكضون إليه خيلهم ويسعون دوڑاتے ہیں۔اُس کی طرف والہانہ بڑھتے ہیں۔۳۲۰