کرامات الصادقین — Page 220
كرامات الصادقين ۲۲۰ اُردو ترجمه إرادة كالمنجمين والمعطين۔کرنے والے اور فیاض لوگوں کی طرح ارادہ نہیں فكأنه يقول كيف لا تؤمنون پایا جاتا ( تو تردید میں ) گویا اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے برب البرية وتكفرون کہ تم کس لئے مخلوقات کے پروردگار پر ایمان نہیں بــــربـــوبيــــه الإرادية وهو لاتے اور اس کی بالا رادہ ربوبیت کا انکار کرتے الذي يُربّي العالمين ويغمر ہو۔حالانکہ وہی تو تمام جہانوں کی پرورش کرتا ہے بنواله ويحفظ السماوات اور وہ (سب کو ) اپنے احسانات سے ڈھانپتا اور والأرض بقدرته وجلاله اپنی قدرت اور جلال کیساتھ آسمانوں اور زمین کی ويعرف من أطاعه ومن حفاظت فرماتا ہے۔جو لوگ اس کی اطاعت کرتے عصا فيغفر المعاصی ہیں ان کو بھی اور جو نافرمانی کرتے ہیں ان کو بھی أو يؤدب بالعصا ومن خوب جانتا ہے۔پس گناہگاروں کے گناہ معاف جاءه مطیعا فله جنتان کر دیتا ہے یا سزا سے ان کی اصلاح کرتا ہے لیکن وحقت به فرحتان فرحة جو شخص رمانبردار بن کر اس کے پاس آئے۔اس يصيبــه مــن اســم الــرحيـم کے لئے دوجنتیں ہیں اور دو خوشیاں اس کا احاطہ کر ۹۸ وأخرى من الرحمن لیتی ہیں ایک خوشی تو اسے صفت رحیمیت سے ملتی القديم فيجزى جزاء ہے اور دوسری خوشی رحمانیت کی قدیم صفت أوفى من الله الأعلى ويُدخل ملتی ہے۔پس اسے اللہ بلند و برتر کی طرف سے في الفائزين۔ولا شک پوری پوری جزا دی جاتی ہے۔اور وہ بامراد لوگوں أن هذه الصفات تجعل میں داخل کر دیا جاتا ہے۔لا ریب یہ صفات الله مستحقا للعبادة الله تعالیٰ کو عبادت کا مستحق اور سعادت کے ނ مـعـطـيـا مــن عطايا السعادة وأما انعامات بخشنے والا قرار دیتی ہیں۔لیکن التقديس وحده كما ذکر فی صرف اس کی تقدیس کا بیان جیسا کہ انجیل الإنجيل فلا يُحرك الروح میں مذکور ہے روح میں عبادت کے لئے حرکت ۳۱۲