کرامات الصادقین — Page 216
كرامات الصادقين ۲۱۶ اُردو ترجمه المنتظَرة له جهل و ظلم حالتِ منتظرہ کا تجویز کرنا جہالت، ظلم اور گناہ واجترام۔وأما الإنجيل ہے۔لیکن انجیل خدائے باری تعالیٰ کو حالتِ فيجعل البارئ عزّ اسمه منتظره کا محتاج اور بعض مفقوداور غیر موجود کمالات محتاجا إلى الحالة المنتظرة کے لئے بے چین قرار دیتی ہے۔اور انجیل خدائی وضاجر الكمالات مفقودة درخت کے کامل ہونے کو تسلیم نہیں کرتی بلکہ اُس غير الموجودة ولا يقبل کے پھل کے پکنے کی صرف آرز وظاہر کرتی ہے۔وجود كمال شجرته بل خدا کے بدر منور ہونے کی قائل نہیں بلکہ وہ اس يُظهر الأماني لإيناع ثمرته کی قدر و منزلت کے بڑھنے کے زمانہ کی منتظر ہے وليس قائل استنارة بدره گویا انجیل کا خدا مرادوں کے بر نہ آنے کے رنج بل ينتظر زمانَ عُلُوّ قدرہ کی وجہ سے خاموش ہے اور اپنے ارادوں کو پورا كأن رَبَّ الإنجيل واجم کرنے سے عاجز ہے۔اُس نے کتنی ہی راتیں من فقد المرادات و عاجز اپنے کمالات ( کے عروج کو پہنچنے ) کا انتظار عن إمضاء الإرادات۔وکم کرتے ہوئے اور حالات کے پلٹا کھانے کی من ليلة باتها ينتظر كمالات اُمید میں گزار دیں یہاں تک کہ وہ کامیابی کے ويترقب تغیر حالات حتی ایام سے مایوس ہو گیا اور اپنے بندوں کی طرف يئس من أيام رشاده و أقبل متوجہ ہوا تا وہ اُس کی مراد بر آنے کی دعائیں على عباده ليتمنوا له حصول کریں اور تا وہ اُس کے غم کے مٹنے اور اُس کے مراده وليعقدوا الهمم لزوال آشوب چشم کے علاج کے لئے اپنی کمر ہمت كَمَدِه و علاج رَمَدہ سبحان باندھ لیں۔پاک ہے ہمارا رب۔یہ اس پر کھلا کھلا ربنا إن هذا إلا بُهتان مبين | بہتان ہے۔اس کا تو یہ عالم ہے کہ جب وہ کسی إنما أمره إذا أراد شيئًا چیز کا ارادہ کرتا ہے کہ وہ ہو جائے اورصرف أن يقول له كن فيكون کہہ دیتا ہے کہ وہ ہو جائے تو وہ ہو جاتی ہے۔۳۰۸