کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 279

کرامات الصادقین — Page 210

كرامات الصادقين ۲۱۰ اُردو ترجمه إلى خبثة نياته وإنما هو عند الله اور ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک اپنی زبان کی مٹھاس مع حلاوة لسانه و حسن بیانه اور طرز بیان کی خوبصورتی کے باوجود ایسے گوبر کی طرح كمثل روث مفضض او گنیف ہے جس پر چاندی کا ملمع کیا گیا ہو یا ایسے بیت الخلاء کی مبيض قد آمنتُ شفتاه و قلبه من طرح ہے جس پر سفیدی کی گئی ہو۔اُس کے ہونٹ تو مومن ہیں مگر وہ دل سے کافر ہے۔الكافرين۔فأولئك الذين غضب الله پس یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب عليهم وهم المرادون من قوله بھڑکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ إنهم دُعُوا إلى سے بھی یہی لوگ مراد ہیں۔ان لوگوں کو حق کے سُبل الحق فتركوها بعد رؤيتها راستوں کی طرف بلایا گیا لیکن انہوں نے ان وتخيروا المفاسد بعد التنبه علی راستوں کو دیکھ لینے کے باوجود انہیں چھوڑ دیا اور خبثتها وانطلقوا ذات الشمال بد اعمالیوں کے مفاسد کو اُن کی خباثت کو جاننے کے وما انطلقوا ذات اليمين وإنهم با وجود اختیار کر لیا۔وہ بائیں طرف چل پڑے اور ركنوا إلى المين وما بقى إلا قيد انہوں نے دائیں طرف رُخ نہ کیا۔وہ جھوٹ کی رمحين وعدموا الحق بعد ما طرف ایسے مائل ہو گئے حتی کہ دو نیزہ بھر فرق بھی كانوا عارفين وأمّا الضالون باقی نہ رہا۔اُنہوں نے حق کو پہچان لینے کے بعد اس الذين أُشير إليهم في قوله عز سے تہی دست ہو گئے۔لیکن وہ گمراہ لوگ جن کی وجلّ الضَّالِّينَ فهم الذين وجدوا طرف خدائے عزوجل کے کلام الضالین میں اشارہ طريقا طامسًا فی لیل دامس ہے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اندھیری رات میں مٹا فزاغوا عن المحجّة قبل ظهور ہوا راستہ پایا مگر وہ کسی پختہ دلیل کے ظہور سے قبل ہی ہوار الحجة وقاموا على الباطل اس راہ سے بھٹک گئے اور غافل ہو کر باطل پر قائم غافلين۔وما كان مصباح يؤمنهم ہو گئے۔نہ کوئی چراغ ملا جو انہیں لغزش سے بچاتا العثار أو يبين لهم الآثار فسقطوا اور انہیں راہِ حق کے آثار دکھاتا۔پس وہ نادانستہ