کرامات الصادقین — Page 191
كرامات الصادقين ۱۹۱ اُردو ترجمہ فليست ذاتية لله تعالى بل ہے بلکہ وہ بعض موجودات کے مطلق کمال کی هي ناشية من عدم قابلية عدم قابليت کے باعث پیدا ہوتی ہے اور اسی بعض الأعيان للكمال المطلق طرح گمراہ ٹھہرانے کی صفت کا ظہور بھی گمراہ ۸۷ وكذلك صفة الإضلال لا يبدو ہونے والوں میں کجروی پیدا ہونے کے بعد إلا بعد زيغ الضالين۔ وأما حصر ہی ہوتا ہے۔ لیکن صفات مذکورہ کا حصر چار کے الصفات المذكورة في الأربع عدد میں اس عالم کو مد نظر رکھ کر ہے جس میں فنظرًا على العالم الذي يوجد فيه ان صفات کے آثار پائے جاتے ہیں کیا تم آثارها ۔ ألا ترى أن العالم كله نہیں دیکھتے کہ یہ عالم سارے کا سارا بزبانِ يشهد على وجود هذه الصفات حال ان چاروں ) صفات کے وجود پر بلسان الحال وقد تجلت هذه شہادت دے رہا ہے اور یہ چاروں صفات الصفات بنحو لا يشك فيها اس طور سے جلوہ افروز ہیں کہ کوئی صاحب بصير إلا من كان من قوم عمين۔ بصیرت ان میں شک نہیں کر سکتا سوائے اس وهذه الصفات أربع إلى انقراض کے جو اندھوں میں سے ہواور یہ صفات اس النشأة الدنيوية ثم تتجلى من دنیا کے اختتام تک چار ( کی تعداد میں ہی ) تحتها أربع أخرى التي من شأنها رہیں گی ۔ پھر ان ہی میں سے چار اور صفات جلوہ أنها لا تظهر إلا في العالم الآخر گر ہوں گی ۔ جن کی شان یہ ہے کہ وہ دوسرے وأوّلُ مطالعها عرش الرب جہان میں ہی ظاہر ہوں گی اور ان کی پہلی جلوہ گاہ الكريم الذي لم يتدنس بوجود رب کریم کا عرش ہوگا۔ جو کبھی غیر اللہ کے وجود غير الله تعالى وصار مظهرًا تامًا سے آلودہ نہیں ہوا اور وہ عرش پروردگار عالم کے لأنوار رب العالمين وقوائمه انوار کا مظہر تام ہے۔ اور اس کے پائے چار أربع ربوبية ورحمانية ورحيمية ہیں ۔ ربوبیت ۔ رحمانیت ۔ رحیمیت اور ومالكية يوم الدين۔ ولا جامع مالكيت يوم الدین۔ اور ظلی طور پر ان چاروں ۲۸۳