کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 279

کرامات الصادقین — Page 185

كرامات الصادقين ۱۸۵ اردو ترجمہ وفي قوله تعالى صِرَاطَ اور اللہ تعالیٰ کے کلام صِرَاطَ الَّذِينَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں ایک اور اشارہ إشارة أخرى وهو أن الله تعالى ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے بعد میں آنے خلق الآخرين مشاکلین والوں کو پہلے آنے والوں کے مشابہ پیدا کیا بالأولين۔ فإذا اتصلت أرواحهم ہے۔ پھر جب ان کی روحیں اُن کی روحوں سے بأرواحهم بكمال الاقتداء بوجه کامل پیروی اور طبیعتوں کی مناسبت سے ومناسبة الطبائع فينزل الفيض باہم متصل ہوتی ہیں تو ایک خاص فیض اُن کے من قلوبهم إلى قلوبهم ثم إذا تم دلوں سے ان کے دلوں پر نازل ہوتا ہے پھر إفضاء المستفيض إلى المفيض جب فیض چاہنے والے کی رسائی فیض پہنچانے وبلغ الأمر إلى غاية الوصلة والے تک ہو جاتی ہے اور اتصال باہمی کا معاملہ فيصير وجودهما کشیء واحد اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو ان دونوں کا وجود ایک ويغيب أحدهما في الآخر وهذه هى وجود كى طرح ہو جاتا ہے اور وہ ایک الحالة هي المعبر عنها بالاتحاد دوسرے میں غائب ہو جاتے ہیں ۔ اور یہی وہ وفي هذه المرتبة يُسمى حالت ہے جسے اتحاد سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس السالك في السماء تسمية مرتبہ میں سالک کو آسمان میں نبیوں کا نام دیا الأنبياء لمشابهته إياهم في جاتا ہے ۔ اس وجہ سے کہ طبیعت اور جوہر میں وہ جوهرهم وطبعهم كما لا يخفى ان سے مشابہت رکھتا ہے۔ جیسا کہ ( یہ امر ) على العارفين۔ عارفوں پر مخفی نہیں ۔ وحاصل الكلام أن الله تعالى حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ۸۵ يُبشِّر لأمة نبينا صلى الله عليه نبي صلى اللہ علیہ وسلم کی امت کو خوشخبری دیتا ہے گویا وسلم فكأنه يقول يا عباد إنكم وہ یہ کہتا ہے کہ اے میرے بندو! تم پہلے انعام یافتہ خُلقتم على طبائع المنعمين لوگوں کی طبیعتوں پر پیدا کئے گئے ہو اور تم میں اُن ۲۷۷