کرامات الصادقین — Page 172
كرامات الصادقين ۱۷۲ اُردو ترجمه اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ هذا الدعاء رد على قول یہ دعا اُن لوگوں کے خیال کی تردید ہے جو الذين يقولون إن القلم قد کہتے ہیں کہ جو کچھ ہونے والا ہے اُس کو لکھ کر قلم جف بما هو كائن فلا فائدة خشک ہو چکا ہے۔پس اب دعا کا کوئی فائدہ في الدعاء فالله تبارک نہیں۔واللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قبولیت وتعالى يُبشِّر عباده بقبول دعا کی بشارت دیتا ہے۔گویا وہ کہتا ہے کہ اے الدعاء فكأنه يقول يا عباد میرے بندو ! تم مجھ سے دعا کرو۔میں تمہاری دعا ادعوني أستجب لكم۔وإن قبول کروں گا۔اور دعا میں یقیناً تاثیریں اور في الدعاء تأثيرات وتبديلات (قضاء وقدر كو ) بدلنے کی طاقتیں ہیں اور مقبول والدعاء المقبول يُدخل الداعى دعا، دعا کرنے والے کو انعام یافتہ گروہ میں في المنعمين۔و في الآية إشارة داخل کر دیتی ہے۔اس آیت میں اُن علامتوں إلى علامات تُعرف بها کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن سے اصطفاء کے قبولية الدعاء على طريق طریق پر قبولیت دعا کی شناخت ہوتی ہے اور اس الاصطفاء وإيماء إلى آثار میں مقبولین کے آثار کی طرف بھی اشارہ ہے المقبلين۔لأن الإنسان إذا کیونکہ انسان جب خداے رحمان سے محبت کرتا أحبّ الرَّحمن وقوى الإيمان ہے اور اپنے ایمان کو پختہ کر لیتا ہے تب وہی حقیقی فذالك الإنسان وإن كان انسان ہوتا ہے اور اگر چہ اُسے اپنی دعاوں کی على حسن اعتقاد في أمر قبولیت کے بارہ میں پہلے بھی حسن اعتقاد استجابة دعواته ولكن ہولیکن صرف اعتقاد عین الیقین کی طرح ۲۶۴