کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 279

کرامات الصادقین — Page 153

كرامات الصادقين ۱۵۳ اُردو ترجمه باطل لا أصل لها لأن العدل لا بے بنیاد ہے۔کیونکہ عدل کا تصور تب ہو سکتا يتصور إلا بعد تصور الحقوق ہے جب اس سے پہلے حقوق کا تصور کیا وتسليم وجوبها وليس لأحد جائے اور ان کے وجوب کو تسلیم کر لیا حق على رب العالمين۔ألا ترى جائے مگر رب العالمین پر تو کسی کا کوئی حق أن الله سحر کل حیوان نہیں ہو سکتا۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ اُس نے ہر (۷۳) للإنسان وأباح دماء ها حیوان کو انسان کی خدمت میں لگایا ہوا ہے؟ اس کی لأدنى ضرورته فلو كان ادنی ضرورت کے لئے بھی ان کا خون بہانے کو جائز وجوب العدل حقا علی رکھا ہے۔اگر عدل کو بطور حق کے اللہ کے ذمہ الله تعالى لما كان له سبيل واجب قرار دیا جائے تو پھر اس کے لئے ایسے لإجراء هذه الأحكام وإلا احکام کے جاری کرنے کا کوئی موقع نہیں تھا ورنہ فكان من الجائرين۔ولكن اس کا شمار ظالموں میں ہوتا۔لیکن اللہ تعالیٰ اپنی الله يفعل ما يشاء في ملكوته بادشاہت میں جو چاہتا ہے کرتا ہے۔وہ جسے چاہے يُعزّ من يشاء ويُذلّ من يشاء عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کرتا ہے۔جسے ويُحيى من يشاء ويميت چاہے زندہ رکھتا ہے اور جسے چاہے موت دیتا ہے من يشاء ويرفع من يشاء جسے چاہے وہ بلند کرتا ہے اور جس کو چاہے پست کر ويضع من يشاء۔ووجود دیتا ہے مگر حقوق کے وجود کا تقاضا اس سے اُلٹ الحقوق يقتضی خلاف ذلک ہے بلکہ یہ تو اس کے ہاتھ کو باندھ دیتا ہے اور بل يجعل يداه مغلولة وأنت تم دیکھتے ہو کہ تمہارا مشاہدہ حقوق کے دعوی کو ترى أن المشاهدة تُكذبها جھلاتا ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو وقد خلق الله مخلوقه على مختلف درجوں میں پیدا کیا ہے۔اس کی مخلوق تفاوت المراتب فبعض مخلوقہ میں سے کچھ تو گھوڑے اور گدھے ہیں اور أفراس وحـمـيـر وبعضه جمال کچھ اونٹ اور اونٹنیاں ہیں۔کچھ کتے اور ۲۴۵