کرامات الصادقین — Page 152
كرامات الصادقين ۱۵۲ اُردو ترجمه وضعها على معيار التحقيقات کا سلسلہ قرار دے گا۔اگر تو (اس عقیدہ پر) سلکها مسلک الهذيانات تعجب کرے (تو بجا ہے) کیونکہ تو ان کے اس وإن تعجب فما تجد أعجب دعوی سے زیادہ عجیب بات اور کہیں نہیں پائے من قولهم هذا لا يعلمون گا۔وہ نہیں جانتے کہ عدل رحم سے بھی زیادہ اہم أن العدل أهم و أوجب من اور ضروری ہے۔پس جو گناہگار کو چھوڑ دے الرحم فمن ترک المذنب وأخذ اور بے گناہ کو سزا دے اس نے ایک ایسا فعل المعصوم ففعل فعلا ما بقى منه کیا جس سے نہ عدل باقی رہ گیا اور نہ رحم اور عدل ولا رحم وما يفعل مثل ایسا کام سوائے اس کے کوئی نہیں کر سکتا جو ذلك إلا الذى هو أضل من پاگلوں سے بھی گیا گزرا ہو۔پھر جبکہ مؤاخذہ المجانين۔ثم إذا كانت خدا تعالیٰ کے وعدہ اور وعید کے ساتھ المؤاخذات مشروطة بوعد الله مشروط ہے تو پھر ضابطہ احکام کی اشاعت تعالى ووعيده فکیف یجوز اور اس کے استحکام سے قبل کسی کو سزا دینا تعذيب أحد قبل إشاعة قانون کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ کسی ایسی الأحكام وتشييده وكيف يجوز معصیت کے صادر ہونے پر جس کے أخذ الأولين والآخرين عند ارتکاب کے وقت نہ کوئی وعید موجود ہو اور صدور معصية ما سبقها وعید نہ کسی کو اس کی اطلاع ہو پہلوں اور پچھلوں عند ارتكابها وما كان أحد عليها كا مواخذہ کیونکر جائز ہے۔سچی بات تو یہ من المطلعين۔فالحق أن العدل ہے کہ خدا تعالیٰ کی کتاب اس کے وعدہ لا يوجد أثره إلا بعد نزول كتاب اور اس کی وعید اس کے احکام اور اس کی الله ووعده ووعيده وأحكامه حدود اور اس کی شرائط کے نزول کے بعد ہی وحدوده و شرائطه۔وإضافة عدل کا وجود و نفوذ ممکن ہے۔اور اللہ تعالیٰ العدل الحقيقي إلى الله تعالی کی طرف عدل حقیقی کی نسبت قطعاً غلط اور ۲۴۴