کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 279

کرامات الصادقین — Page 13

كرامات الصادقين ۱۳ تفسیر سورہ فاتحہ تالیف کر کے بصورت رسالہ شائع کر دی تو میں سچے دل سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر ثالثوں کی شہادت سے یہ ثابت ہو جاوے کہ ان کے قصائد اور انکی تفسیر جو سورہ فاتحہ کے دقائق اور حقائق کے متعلق ہوگی میرے قصائد اور میری تفسیر سے جو اسی سورہ مبارکہ کے اسرار لطیفہ کے بارہ میں ہے ہر پہلو سے بڑھ کر ہے تو میں ہزار روپیہ نقد اُن میں سے ایسے شخص کوڑوں گا جو روز اشاعت سے ایک ماہ کے اندر ایسے قصائد اور ایسی تفسیر بصورت رسالہ شائع کرے اور نیز یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ بعد بالمقابل قصائد اور تفسیر شائع کرنے کے اگر ان کے قصائد اور ان کی تفسیر نحوی وصرفی اور علم بلاغت کی غلطیوں سے مبرا نکلے اور میرے قصائد اور تفسیر سے بڑھ کر نکلے تو پھر باوصف اپنے اس کمال کے اگر میرے قصائد اور تفسیر بالمقابل کے کوئی غلطی نکالیں گے تو فی غلطی پانچ روپیہ انعام بھی دوں گا۔ مگر یادر ہے کہ نکتہ چینی آسان ہے ایک جاہل بھی کر سکتا ہے مگر نکتہ نمائی مشکل ۔ تفسیر لکھنے کے وقت یہ یادر ہے کہ کسی دوسرے شخص کی تفسیر کی نقل منظور نہیں ہو گی بلکہ وہی تفسیر لائق منظوری ہوگی جس میں حقائق و معارف جدیدہ ہوں بشرطیکہ کتاب اللہ اور فرمودہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخالف نہ ہوں ۔ اللہ جل شانه قرآن کریم کی تعریف میں صاف فرماتا ہے کہ اس میں ہر یک چیز کی تفصیل ہے پھر معارف اور حقائق کا کوئی حصہ کیونکر اُس سے باہر رہ سکتا ہے۔ ماسوا اس کے خدا تعالیٰ کا قانون قدرت بھی یہی شہادت دے رہا ہے کہ جو کچھ اُس سے صادر ہوا ہے خواہ ایک مکھی ہو وہ بے انتہا عجائبات اپنے اندر رکھتا ہے پھر کیا ایک ایماندار یہ رائے ظاہر کر سکتا ہے کہ ایک مکھی یا مچھر کی بناوٹ تو ایسی اعلیٰ درجہ کی ہے کہ اگر قیامت تک تمام فلاسفر اُس کے خواص عجیبہ کے دریافت کرنے کے بارہ میں سوچتے چلے جائیں تب بھی ان کو یہ دعوی نہیں پہنچتا کہ جس قدر ان میں (۸) خواص تھے انہوں نے معلوم کر لیے ہیں ۔ لیکن قرآن کریم کی عبارتیں صرف سطحی خیالات تک محدود ہیں جو ایک جاہل ملا اُن پر سرسری نظر ڈال کر دعویٰ کر سکتا ہے کہ جو کچھ قرآن میں تھا ۱۰۵