کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 279

کرامات الصادقین — Page 139

كرامات الصادقين ۱۳۹ اُردو ترجمہ عز اسمه إمعان النظر فی اس کے کمالات میں پورا غور کیا جائے اور اس کمــالاتــه وتتبع صفات تليق کی ذات کے لائق صفات کی جستجو کی جائے بذاته وتذكر ما هو أولى من اور ان صفات کا ورد کیا جائے جو ہر مادی جدواى وأحرى من عدوى عطیہ سے بہتر اور ہر مدد سے مناسب تر ہیں وتصـور مــا أثبت بأفعاله من اور اس نے اپنے کاموں سے جو صفات ثابت قوته وحوله وقهره وطوله کی ہیں یعنی اس کی قوت اس کی طاقت اس کا فاحفظه ولا تكن من اللافتين غلبہ اور اس کی سخاوت کا تصور کیا جائے ۔ پس واعلم أن الربوبية كلها اس بات کو یاد رکھو اور لا پروا مت بنو ۔ اور لله والرحمانية كلها الله جان لو که ربوبیت ساری کی ساری اللہ کے والرحيمية كلها لله والحكم لئے ہے ۔ اور رحمانیت ساری کی ساری اللہ في يوم المجازاة كله لله کے لئے ہے۔ اور رحیمیت ساری کی ساری فإياك وتأبيك من مطاوعةِ الله کے لئے ہے اور جزا سزا کے دن کامل مُربّيك وكُن من المسلمین حکومت اللہ کے لئے ہے پس اے مخاطب الموحدين۔ وأشار في الآية اپنے پرورش کنندہ کی اطاعت سے انکار نہ کر إلى أنه تعالى منزّه من تجدد اور موحد مسلمانوں میں سے بن جا۔ پھر اس صفة وحؤول حالة ولحوق آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ وصمة وحور بعد كَورِ فرمایا ہے کہ وہ تجدید صفت ، حالت کی تبدیلی ، بل قد ثبت الحمد له أولا کسی عیب کے الحاق اور خوبی کے بعد نقص کے وآخرا وظاهرا وباطنا إلى پانے سے پاک ہے ۔ بلکہ اس کے لئے اوّل و أبد الآبدين۔ ومن قال خلاف آخر اور ظاہر و باطن میں ابدالآباد تک حمد ذلك فقد احرَورَف وكان ثابت ہے ۔ اور جو اس کے خلاف کہے وہ حق من الكافرين۔ سے برگشتہ ہو کر کافروں میں سے ہو گیا ۔ ۲۳۱